ایک پیر صاحب کے متعلق چند سوال کاجواب
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک پیر صاحب تشریف لائے ہیں بعضوں کو مرید بھی بنایا ہے بیعت کے بعد مرید کے کان میں کہتے ہیں کہ بن بن خدابن یا تو ہی خداہے کیا ازروئے شریعت وطریقت اس طرح کہنا درست ہے یا نہیں۔
جب پیر صاحب کا وعظ ہوتاہے تو اکثر مرید ین آپ کے وعظ میں شریک ہوتے
ہیں اثنائے وعظ میں صرف مرید ین ہاہو، آہا کا شور مچاتے ہیں حالاں کہ دوسرے سامعین پر کچھ اثر نہیں ہوتا کیا شیخ صاحبوں کو ان باتوں سے مریدوں کو روکنا نہیں چاہیے۔
پیر صاحب کے اثناء وعظ میں پیر صاحب کی پس خوردہ چا ئے یا کافی آپس میں مریدین جھپٹ کر بانٹ لیتے ہیں ایسا معلوم ہوتاہے گویا جھگڑرہے ہیں مگر پیر صاحب انہیں منع نہیںکرتے معلوم ہوتاہے کہ پیر صاحب ہی نے پٹی پڑھائی ہے کیا بزرگان دین میں ایسی باتیں پائی جاتی تھیں۔
پیر صاحب کے باہر نکلنے کی شان عجیب ہوتی ہے خوب بن ٹھن کر دس بارہ آدمیوں کو ساتھ لیے ہوئے باہر آتے ہیں۔
ان کے مریدوں کو دیکھاگیا ہے کہ عین نماز پڑھتے وقت چونک پڑتے ہیں اور عجیب قسم کی حرکت کرتے ہیں بازو میں کھڑے ہوئے نمازی ڈرجاتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ان کو مرض پیداہوگیا ہے بعض دعا مانگتے وقت عجیب طریقہ سے جسم کو حرکت دیتے ہیں کیا یہ سب عبادت او رخلوص پر مبنی ہوسکتی ہے۔
الجواب وباﷲ التوفیق
جواب:ایسے کلمات کہنا درست نہیں ہے۔
دوران وعظ میں ایسا شور وغل مچانا جس سے لوگوں کے سننے میں خلل وفتور پڑے روکنا چاہیے۔
لغایت بلا عذر شرعی کے نماز پنجگانہ میں شریک نہ ہونا درست نہیں ایسا کرنے والا متبع سنت نہیں ہوسکتا اگر باز نہ آئے تو اس کو پیر بنانا ہی درست نہیں ہے چہ جائیکہ اور باتیں سنت کی اتباع کا اور سکون اور وقار کا ہر وقت لحاظ اور خیال رکھنا ضروری ہے دس بارہ آدمیوں کا ساتھ ہوجانا یا اپنی حیثیت کے مطابق صاف وستھرا رہنا یہ توکوئی عیب کی بات نہیں ہے البتہ تصنع وبناوٹ وریاکاری یہ سب بری اور مذموم خصلتیں ہیں جن کا ترک ضروری ہے ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔