الجواب وباللّہ التوفیق
جواب: (۱،۳) قابل تسلیم شئی کو قبل تقسیم و تعیین مشاعاً وقف کرنا نافذ و صحیح نہیں ہوتا ہے بلکہ موقوف رہتا ہے اگر بعد وقف کے تقسیم و تعیین کرکے موقوف علیہکا اس پر قبضہ کرا دیا جائے تو اب نافذ اور صحیح ہو جائیگا ورنہ باطل اورکا لعدم ہو جائیگا اوربیع شرعاً مشاعاً بھی اپنے حصہ کی صحیح ہو جاتی ہے بیع میں تقسیم و افراز قبل سے ضروری نہیں۔ ہبہ بھی مثل وقف کے قابل تقسیم شئی مکسوب کا قبل تقسیم و احراز کے مشاعاً درست نہیں ہوتا۔
(۲،۴) وقف و بیع درست تو دونوں ہوجائیں گے مگر بغیروجہ شرعی کے ایسا کرنے میں واقف و بائع سخت گنہگار ہونگے اولاد کو عاق کرنے اور محروم کرنے کے گناہ میں مبتلا ہونگے اور اگر وجہ شرعی کے ساتھ ہو تو گناہ بھی نہ ہوگا۔ وجہ شرعی یہ ہے مثلاً اولاد ایسی فاسق و فاجر ہو جس سے مال متروکہ کے حرام و ناجائز اُمور میں تلف کر ڈالنے کا ظن غالب ہو جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
محمود عفی عنہٗ سید احمد علی سعید مفتی u
۱۹؍۶؍۱۳۸۶ھ نائبمفتی u ۱۶؍۶؍۱۳۸۶ھ
مشترکہ زمین سے بلا اجازت وقف کرنا کیسا ہے
سوال:ایک شخص کا انتقال ہوگیا اس نے اپنی اولاد میں دس لڑکے لڑکیاں چھوڑیں جن میں بعض بالغ ہیں اور بعض نابالغ ان میں سے بڑے لڑکے نے کہا کہ میں نے ایک بیگھا زمین مسجد کے لئے وقف کر دی ہے اور کہا کہ چھوٹے بھائیوں کو اپنے حصہ سے ان کا حصہ دے دوں گا۔ تو یہ مشترکہ زمین سے وقف کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جن میں بالغ، نابالغ دونوں موجود ہیں اور اس جگہ کو مسجد میں تبدیل کرنا اوراس میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ فقط
الجواب وباللّہ التوفیق
جواب: جب ورثاء میں نابالغ بھی ہوں جن کی اجازت بھی شرعاً معتبر نہیں امام ابویوسفؒ کے نزدیک وقف مشاع کے جائز ہونے کے باوجود اس طرح وقف کرنا جائز نہیں تھا وہ شخص اس میں گنہ گار ہوا جس پر اس کو توبہ کرنا چاہئے۔
اور اس وقف کا حکم شرعی یہ ہوا کہ اگر ابھی تک اس زمین پر تعمیر