جواب: جائداد وقف کرنے کے بعد اس کو تقسیم کرنا درست نہیں۔ البتہ وقف کردہ جائداد کی آمدنی موقوف علیہم پر واقف کے ترکے کے مطابق تقسیم ہوگی۔
مذکورہ موقوفہ جائداد کی آمدنی کی تقسیم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر واقفہ نے اولاد پر بغیر ان کے نام ذکر کئے ہوئے وقف کی ہو تو اس کی پوری آمدنی واقفہ کی شرط کے مطابق محمد جان اور رحمت بی کے درمیان تقسیم ہوگی۔
یعنی اگر برابر ، برابر پانے کی شرط کی ہو تو برابر، برابر حصہ ملیگا اور اگر حصوں میں تفاوت رکھا تھا تو اس کے اعتبار سے ان دونوں میں سے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔
اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا نام لے کر وقف کیا ہو تو انتقال کر جانے والے موقوف علیہم کا حصہ فقراء کو ملے گا۔ اور باقی آمدنی واقفہ کی شرط کے مطابق محمد جان اور مسماۃ رحمت بی کے درمیان تقسیم ہوگی۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔
کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
مفتی u، ۱۲؍۴؍۱۴۰۱ھ
موقوفہ زمین بیچ کر اسی رقم سے دوسری زمین خریدنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے متعلق:
{۱} کسی شخص نے کچھ زمین مسجد کے لئے وقف کی اور پھر کسی وجہ سے اس وقف شدہ زمین کو فروخت کر کے دوسری جگہ سے زمین خرید کر اسی مسجد کے نام پر دے دی کیا یہ جائز ہے؟
{۲}کسی آدمی نے اپنی خاص زمینوں میں سے ایک پائو زمین کسی مسجد کے لئے زبانی طور پر بغیر رجسٹرڈ کئے وقف کر دی اس کے بعد اس وقف شدہ زمین کو دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر کے اپنی دوسری جگہ سے ایک پائو زمین اسی مسجد کے نام پر دے دی۔
از روئے شرع کیا حکم رکھتا ہے؟ فقط
الجواب وباللّہ التوفیق
جواب: {۱}اگر واقف نے وقف کرتے وقت استبدال کی شرط نہیں لگائی تھی تو وقف تام ہو جانے کے بعد اس عبارت ’’واما الاستبدال ولو للمسکین بدون الشرط فلا یملک‘‘ کی رو سے یہ استبدال جائز نہ ہوگا۔
لہذا اگر بغیر شرط استبدال کے استبدال ہوگیا ہے تو واقف اس بدلنے میں گنہ گار ہوا جس پر توبہ کرنا ضروری ہے۔
باقی دوسری زمین جو خرید کر وقف کی ہے وہ زمین بھی وقف ہوگئی