ہوگیا پس اگر امام نے حدث کی وجہ سے اس کو خلیفہ بنادیا تو بالکل مدرک کی طرح چار رکعتیں امام کی نماز پوری کرے فقط دو رکعتوں پر سلام نہ پھیرے بلکہ جس موقعہ سے امام نے خلیفہ بنایا ہے وہیں سے امام کی نماز پوری کردے کما یستفہم عن ہٰذہٖ العبارۃ ان شروط استخلاف ثلاثۃ (الی قولہٖ) الثالث ان یکون الخلیفۃ صالحاً للخلافۃ وان حکم الاستخلاف صیرورۃ الثانی اماما وخروج الاوّل عن امامتہ وصیرور تہٗ فی حکم المقتدی بالثانی وان الثانی یصیراماماً الخ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
الجواب صحیح کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
سید احمد علی سعید مفتی u
نائب مفتی u ۵؍۲؍۱۳۸۷ھ
مسافر مقتدی کی نیت کاحکم
سوال:قصر نماز امام صاحب کے پیچھے پڑھے تو ۴؍رکعت کی نیت کرنی ہوگی یا دورکعت کی اور اگر امام دورکعت یا تین رکعت نماز ادا کرچکے ہوں اور مقتدی قصر اب شریک جماعت ہوئے تو مقتدی کی قصر کتنی رکعت ادا کرے یعنی اگر تین رکعت امام صاحب ادا کرچکے ہوں توایک رکعت تو ایک رکعت امام صاحب کے ساتھ ادا ہوگی اور اگر امام صاحب دورکعت ادا کرچکے ہیں تو مقتدی قصر کی اب دونوں ہی رکعت ادا ہوچکی تو اب ایسی صورت میں مقتدی قصر کو کتنی رکعت امام صاحب کے سلام کے بعدادا کرنی ہیں۔

جواب:اگر امام مقیم ہے مسافر نہیں ہے تو قصر والے مقتدی کو بھی چار رکعت کی نیت کرنی ہوگی اب اگراس کی کچھ رکعتیں چھوٹ گئیں ہوں تو امام مقیم کے سلام پھیرنے کے بعد رہی ہوئی رکعتیں پوری کرے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
سید احمد علی سعید محمود عفی عنہ مفتی u
نائب مفتی u ۲۹؍۸؍۱۳۸۷ھ ۲۶؍۸؍۱۳۸۷ھ
ایک مسافر کی نماز کا حکم
سوال:ایک مولوی صاحب موضع پھکن پور رُوانہ کے رہنے والے ہیں اور تیلی پور میں پڑھاتے ہیں وہ تیلی پورہ روانہ سے چلے بغرض چندہ مدرسہ