کو اپنی معتاد آواز سے زیادہ بلند آواز سے قرأت کرنا ہوگی اور جس کا مذموم یاغیر محمود ہونا پہلے واضح ہوچکاہے اس لیے ان تمام معروضات سے خود بخود یہ بات نکل آتی ہے کہ صرف دو، دو، تین، تین عورتوں کا تمام شرائط وضوابط کے ساتھ محفوظ مکان میں بطور دَور کے امامت واقتداء کرنا شرعاً بہتر ہوگا اور احقر کو فقہ حنفی سے یہی صورت راجح معلوم ہوتی ہے۔
خلاصہ جواب حسب ’’فقہ حنفی ‘‘ (الف) ازواج مطہرات کی امامت کے بارے میں سکوت تام احوط بلکہ لازم رہے گا۔
(ب)آج کل حافظہ ٔ قرآن عورتوں کے بارے میں اگر اتنی بڑی جماعت کی امامت ہو جس میں آواز معتاد آواز سے زائد ہوتو تمام قیود وشرائط کے باوجود مکروہ تحریمی وناجائز رہے گی۔
(ج) اگر ماہِ رمضان میں حافظہ قرآن عورتوں کی چھوٹی جماعت جس میں آواز معتاد کے اندر اندر ہے اور تمام قیود وشرائط کے اندر رہے اور عورت صف سے صر ف چار انگل آگے رہے تو الامور بمقاصد ہاکے تحت یہ فعل جائز رہے گا۔
(د) اگر ماہ ِ رمضان مبارک میںصرف دو ،دو، تین تین عورتوں کی جماعت جو محض بہ نیت ِحفظ ِقرآن پاک اور بطور دَور ہوتو اور قیود وشرائط کے موافق ہواور مکان محفوظ کے اندر ہو جس میں آواز اپنی معتاد آواز سے زائد نہ رہے تو بلا شبہ جائز رہے گی بلکہ الأموربمقاصد ہا کے تحت مستحسن بھی ہوسکتی ہے۔والعلم عند اﷲ ماابرّیٔ نفسی من الزلل والضلال واﷲ ہوالحفیظ وہو اعلم من الکل ۔ فقط واﷲ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ العبد نظام الدین الاعظمی عفی عنہ
مفتی u
۱۷؍۷؍۱۴۱۹ھ-۱۵؍۱۱؍۱۹۹۸ء
نمازِتراویح کے بعد اجتماعی طورپر دعا مانگنا
سوال:تراویح کے بعد وتر پڑھ کردعا مانگیں یا اس کے بعد دورکعت نفل پڑھ کر امام صاحب دعامانگیں ۔

جواب:تراویح کے بعداور تراویح کے بعد وتر پڑھ کر بھی دعا مانگ سکتے ہیں البتہ وتر کے بعد پھر جب لوگ نفل پڑھتے ہیں اس وقت ہر شخص اپنی اپنی الگ الگ دعا مانگ سکتے ہیں لیکن پھر دوبارہ سب کا مل کر جماعتی طور سے دعا مانگنا ثابت نہیں ہے اس کو ضروری سمجھنا درست نہیں ہے بدعت