باب اخلاق اور تصوف کے مسائل
طریقت اور شریعت کا فرق
سوال: شریعت کہ جس کو علم سفینہ اور طریقت کہ جو علم سینہ کہتے ہیں فی الحقیقت یہ ایک چیز ہیں یا دو اگر یہ ایک ہی ہیں تو فقط علم ظاہر سے ہی تزکیہ کیوںنہیں ہو جاتا اور ہر عالم صوفی کیوں نہیں ہوتا اور ہر صوفی کو عالم ہونا کیوں شرط نہیں ہے اور جو حضرات ظاہری کے مجتہد ہوئے انہوں نے طریقت کا اجتہاد کیوں نہ فرمایا مثلاً حضرت امام اعظم صاحبؒ شریعت کے امام ہیں اور خواجہ معین الدین چشتیؒ طریقت کے مجتہد ہیں۔ کہیں اس کے برعکس نہیں سنا گیا صوفیہ کرام نے جو اشکال ‘افکار ‘اذکار ‘مراقبہ ‘ذکر‘ جہر ذکر ارہ راگ کیماس کا پکڑنا تصور شیخ ضربین لگانا چلہ کرنا حبس دم وغیرہ وغیرہ بہت سے ام رتعلیم فرمائے کہیں یہ بات نہیں سنی گئی کہ امام اعظم صاحبؒ نے بھی کوئی بات اس قسم کی کہیں کسی کو تعلیم فرمائی ہو یا حضرت خواجہ صاحبؒ نے کسی مسئلہ شریعت میں اجتہاد فرمایا ہو یا ان کو کوئی شخص امام اورمجتہدجانے یا امام صاحبؒ کو کوئی شخص طریقت کا امام جانے بلکہ بعض علماء کو تو تصوف کے ہونے سے ہی انکار ہے میری یہ غرض نہیں کہ طریقعت شریعت کے خلاف ہے یا امام صاحبؒ طریقت نہیں جانتے تھے یا حضرت خواجہ صاحب شریعت نہیں جانتے تھے معاذ اللہ منہا مثلاً حضرت اویس قرنیؓ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سراپا انوار سے فیضیاب نہ ہوئے تھے اور کوئی عالم بھی ایسے نہ تھے کہ اپنے زمانہ کے عالم ہوں لیکن ان کو فیض باطنی سرور عالم صلی علیہ وسلم سے اس قدر عطا ہوا تھا کہ وہ واصل الی اللہ ہوئے اور تمام صوفیوں کے سر حلقہ اور اہل سلسلہ اور مقتدا ہوئے اور ان سے انشاء اللہ تعالیٰ تا قیامت سلسلہ جاری رہے گا۔ اگر طریقت علم ظاہری اسی کی وجہ سے ہوتی ہے تو سلسلہ رویہ میں غالباً بہت سے آدمی حضرت اویس قرنیؓ سے علم ظاہری میں زیادہ ہونگے۔ تو اس قیاس سے جو عالم و فاضل زیادہ ہو وہی مرتبہ ولایت میں زیادہ ہونا چاہیے اور یہاں اس کے برعکس معاملہ ہے اس میں ایک صوفی صاحبؒ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہاں علم ظاہری کا کچھ تعلق نہیں ہے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت تھی لہٰذا یہ بڑے لوگ ہوئے اور جن کو اولیاء اللہ سے نسبت ہوگی، وہ اسی درجہ کے ولی ہوں گے مثلاً حضرت بابا صاحبؒ اور حضرت صابر صاحب و حضرت نظام الدین وغیر ہم یہ سب لوگ عالم اور بڑے فاضل ہیں لیکن ان سے اس وقت تک علم طاہری کا کوئی سلسلہ نہیں سنا گیا۔ اور طریقت میں یہ اہل سلسلہ میں ہزار ہا عالم فاضل ان کے بسلسلۂ طریقت میں موجود ہیں مگر زمرۂ علماء میں ان کا کہیں پتہ نہیں اور نیز ابن تیمیہ اور ابن قیم محدث کو کہ جو نقد حدیث میں بڑے فاضل ہیں لیکن ان سے کوئی سلسلہ صوفیوں میں نہ چلا بلکہ زمرہ صوفیوں میں ان کا کہیں نام نہیں اس کی کیا وجہ ہے حالانکہ طریقت اور شریعت ایک ہوں اور ایک ان میں سے صوفی ہو اور ایک ان میں سے عالم ہو یہ کیا