پیش لفظ
از حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اﷲ علیہ
دارُ العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
بسم اللہ الرحمن ۔ الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی۔
اما بعد!
دینی مناصب وفرائض اگرچہ سب اہم ، نازک اور عظیم ذمہ داری کے کام ہیں اور ان کے لئے بڑی صلاحیتوں علم وباخبری اور احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے، اگر وہ علمی ہیں (مثلاً تدریس وتعلیم، تفسیرِ قرآن، شرح حدیث، عقائد واحکام اوراُصول حقائقِ اسلام پر تصنیف وتالیف یا بحث وتحقیق) تو ان کے لئے وسیع مطالعہ، عمیق غور وفکر، اساتذہ کاملین اور علماء واسخین کی معتدبہ صحبت اور تربیت کی ضرورت ہے، علماء نے تفسیر وحدیث اور تعلیم وتدریس کے شرائط مختلف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان فرائض کو انجام دینے کے لئے کتنے علوم سے واقفیت اور کن شرائط کے تحقق کی ضرورت ہے اور انکے بغیر ان فرائض کی ادائیگی میں کیسے خطرات اور اپنے اور دوسروں کے لئے کس ضرر کا اندیشہ ہے۔ علوم وعلماء کے آداب اور مقدماتِ کتب میں ان صفات وشرائط کا بار بار ذکر کیا گیا ہے ۔
لیکن ان فرائض اور دینی مناصب میں سب سے زیادہ وسیع ودقیق ، نازک اور پیچیدہ کام جس کے لیے صرف علم وذہانت، مطالعہ کی وُسعت ، صلاح وتقویٰ ، امانت ودیانت اور ذکاوت وذہانت ہی کی ضرورت نہیں، اس موضوع سے گہری مناسبت، رسوخ فی العلم ورسوخ فی الدین، کتاب وسنت ، فقہ واُصولِ فقہ میں اختصاصی مہارت ہی کی ضرورت نہیں بلکہ طبعِ سلیم ، فہم مستقیم ، فطرتِ صحیحہ جس کو حقائق تک بلا کدو کاوش رسائی ہوجاتی ہے اور جس میں اعتدال وتوازن کا مادہ ودیعت کیا گیا ہو ۔ پھر قدیم وجدید علمی ذخیرہ پر اطلاع وواقفیت کے ساتھ اہلِ زمانہ کی طبائع سے بھی واقفیت، ’’عرف‘‘سے بھی باخبری جس کو فقہاء نے بڑی اہمیت دی ہے اور اس کا لحاظ کیا ہے، ’’تَیْسِیْر‘‘ کے حدود کی نگہداشت اور ’’عُمومِ بَلْویٰ‘‘ کی صحیح تعریف، اور اس کے لحاظ کے فقہی شرائط سے آگاہی ، اپنے زمانہ کے معاملات وعقود، تعلقات کی نوعیت ، نوایجاد چیزوں کی شرعی حیثیت ، تغیراتِ زمانہ اور ان کے شرعی احکام سے واقفیت او ر ان کے لحاظ کے حدود سے آگاہی، اور سب سے بڑھ کر مقاصدِ شریعت اور حکمتِ تشریع کا علم بھی ضروری ہے جو اِسْتِنْباطِ مسائل کی روح اور قیاس واستحسان اور مصالح مرسلہ کا نگہبان اور پاسبان ہے۔ یہ علم، جس کے لئے اتنی صفات وشرائط درکار ہیں اور جس کا کام اتنا نازک اور پیچیدہ ہے ’’علم قضاء وافتاء‘‘ ہے۔ اس لئے اس امت کے مُتَوَّرِ عین (جن میں ایسے نفوسِ قدسیہ بھی شامل ہیں جن کو اجتہاد کا درجہ بھی حاصل تھا) اس منصب