الجواب صحیح۔ محمد انور عفا اللہ عنہ
الجواب الثانی ازمدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
سوال سے واضح ہے کہ مسماۃ عائشہ نابالغہ کا نکاح اس کے چچا نے جزیرہ مورشش میں جو ایک شہر افریقہ میں ہے کردیا، عائشہ اور اس کی والدہ وہاں موجود نہیںتھی ، تو یہ مسئلہ ولی اقرب کی غیبت منقطعہ کے حکم کے نیچے داخل ہے، اور اس مسئلہ میں روایات فقہیہ مختلف ہیں، ۱؎ درمختار میں ہے ولو زوجھا الاقرب حیث ھو جاز النکاح علی القول الظاہر‘‘ اس پر علامہ طحطاوی اپنی شرح میںلکھتے ہیں قولہ ولوزوجھا الاقرب قال فی الھندیۃ اختلف مشائخنا فی ولایۃ الاقرب انہا تزول بالغیبۃ ام بقیت قال بعضہم انہا باقیۃ لاانہ حدث للابعد ولا یتہ بغیبۃ الاقرب فیصیر کان لہا ولیین مستویین فی الدرجۃ کالاخوین اورالعمین وقال بعضہم انقطعت ولایتہ وتنقل الابعد وھو الاصح بدائع فما فی المصنف مفرع علی الاول قولہ علی القول الظاہر (مقابلہ مافی المحیط السرخسی من عدم الجواز وجزم بہ فی المبسوط وظاہر النہر ارجحیتہ وتقدم تصحیحہ جزء ثانی ص ۴۰ باب الاولیاء طحطاوی۔
اور علامہ شامی ۲؎ تحریر فرماتے ہیں۔ قولہ جاز علی الظاہر ای بناء علی ان ولایۃ الاقرب باقیۃ مع الغیبۃ وذکر فی البدائع اختلاف المشائخ فیہ وذکر ان الاصح القول بزوالھا وانتقالھا الی الابعد قال فی المعراج وفی المحیط لاروایۃ فیہ وینبغی ان لایجوز لانقطاع ولایتہ وفی المبسوط لایجوزولأن سلم فلا نہا انتفعت برائہ ولکن ھذہ منفعۃ حصلت لھا اتفاقافلا یبنی الحکم علیھا وکذاذکر فی الھدایۃ
المنع ثم التسلیم بقولہ ولو سلم قال فی الفتح وھذا تنذل واید الزیلعی المنع من حیث الروایۃ والمعقول وکذافی البدائع وبہ علم ان قولہ علی الظاہر لیس المرادبہ ظاہر الروایۃ لماعلمت من انہ لاروایۃ فیہ وانما ھواستظھار لاحد القولین وقد علمت مافیہ من تصحیح خلافہ ومنع فی اکثر الکتب۔
پس ان عبارات سے سوال مذکور کا جواب واضح ہوگیا کہ عائشہ کا جو نکاح اس کے چچا نے بحالت غیبت منقطعہ مورشش میں کیا تھا وہ نکاح علی القول الراجح صحیح نہیںہوا تو اس کے فسخ کی بھی ضرورت نہیں ، پس عائشہ کا نکاح جو بعد بلوغ حافظ سلیمان سے ہوا تو وہ شرعاً صحیح ہوا اور عائشہ کی لڑکی کا نسب حافظ صاحب سے ثابت ہے۔
فقط واللہ اعلم
املاہ خلیل احمد عفی عنہ
الجواب صحیح۔ عنایت الہی عفی عنہ
۲۷ شعبان ۱۳۳۵ھ
بیٹے کی مخطوبہ سے باپ کا نکاح حلال ہے:
سوال: ایک لڑکا اور لڑکی کا باہم رشتہ منگنی جو ہندوستان میںعموماً رائج ہے ان دونوں کے حقیقی دادا اورایک رشتہ کے تایا اورپھوپھی نے کردیا، اوررسم منگنی