اجزاء نجس العین ہیں،تو اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ انقلاب عین سے پاک ہوجانا نجس العین اور غیر نجس العین دونوں میں یکساں طور پرجاری ہوتا ہے، خون بھی نجس العین ہے مشک بنجانے سے پاک ہوجاتا ہے، خود خنزیر کا انقلاب حقیقت کے بعد پاک ہوجانا بھی روایات ذیل سے ثابت ہے۔
ولا ملح کان حمارا وخنزیراولا قذروقع فی بئر فصار حمأۃ لانقلاب العین بہ یفتی۔ درمختار۔ (یعنی) وہ نمک ناپاک نہیں جو دراصل گدھا یا خنزیر تھا، اور وہ پلیدی بھی جو کنوئیں میں گر کر کیچڑ بن جائے ناپاک نہیں۔ کیونکہ انقلاب حقیقت ہوگیا، اسی پر فتوی ہے، قولہ لانقلاب العین علۃ للکل وھذا قول محمدؒ وذکر معہ فی الذخیرۃ والمحیط ابا حنیفۃ (حلیہ) قال فی الفتح وکثیر من المشائخ اختاروہ وھوالمختار لان الشرع رتب وصف النجاسۃ علی تلک الحقیقۃ وتنتفی الحقیقۃ بانتفاء بعض اجزاء مفھومھا فکیف بالکل فان الملح غیر العظم واللحم فاذا صار ملحاترتب حکم الملح ونظیرہ فی الشرع النطفۃ نجسۃ وتصیر علقۃ وھی نجسۃ وتصیر مضغۃ فتطھر والعصیر طاہر فیصیر خمراء فینجس ویصیر خلاً فیطھر فعرفنا ان استحالۃ العین تستتبع زوال الوصف المرتب علیھا اھ (ردالمحتار)
مصنف کا قول کہ انقلاب عین موجب طہارت ہے ، یہ گدھے اورخنزیر کے نمک اورپلیدی کے کیچڑ بن جانے کے بعد پاک ہونے کی دلیل ہے، اور یہ امام محمدؒ کا قول ہے اورذخیرہ اورمحیط میںامام ابوحنیفہؒ کو بھی امام محمد کے ساتھ ذکر کیا ہے(حلیہ) اورفتح القدیر میں ہے کہ بہت سے مشائخ نے اسکو اختیار کیاہے، اور یہی مذہب مختار ہے ، کیونکہ شریعت نے وصف نجاست اس کی حقیقت پر مرتب کیا تھا، اور حقیقت بعض اجزاء کے منتفی ہوجانے سے منتفی ہوجاتی ہے تو بالکل پلٹ جانے سے کیوں منتفی نہ ہو، کیونکہ نمک گوشت اورہڈی سے مغایر ہے اور اس کی نظیر شریعت میں یہ ہے کہ نطفہ ناپاک ہے پھر وہ علقہ یعنی خون بستہ بن جاتاہے وہ بھی ناپاک ہے ، پھر مفغہ یعنی گوشت بن کر پاک ہوجاتا ہے، اور شیرہ انگور پاک پھر شراب بن کر ناپاک ہوجاتا ہے، پھر سرکہ بن کر پاک ہوجاتا ہے، اس سے ہم نے جان لیا کہ حقیقت کا پلٹ جانا اس وصف کے زوال کو مستلزم ہے جو اس حقیقت پر مرتب تھا، انتہی، یجوزاکل ذلک الملح (ردالمحتار) الحماروالخنزیر اذاوقع فی المملحۃ فصار ملحاً او بئر البالوعۃ اذا صار طینا یطھر عندھما خلافا لابی یوسفؒ کذافی محیط السر خسی فتاوی عالمگیری اس نمک کا کھانا جائز ہے۔ انتہی۔ گدھا یا خنزیر کانِ نمک میںگرکر نمک بن جائیں ۔ یا نجاست کا کنواں بالکل کیچڑ ہوجائے تو پاک ہوجاتا ہے، یہ امام ابو حنیفہ اورامام محمدرحمہا اللہ کا مذہب ہے، اور امام یوسف کا خلاف ہے، انتہی۔
ولو احرقت العذرۃ او الروث فصار کل منھما رما داً اومات الحمار فی المملحۃ وکذا ان وقع فیھا بعد موتہ وکذاالکلب والخنزیرلووقع فیھا فصار ملحاً طھر عند محمدؒ واکثر المشائخ اختار واقول محمد ؒ وعلیہ الفتوی لان الشرع رتب وصف النجاسۃ علی تلک الحقیقۃ وقد زالت بالکلیۃ فان الملح غیر العظم واللحم فاذا صارت الحقیقۃ ملحا ترتب حکم الملح حتی لواکل الملح جاز ونظیرہ النطفۃ نجسۃ وتصیر علقۃ