شریف کی قضاء کے شمار ہوں گے۔
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً:صورت مسئولہ میں نفلی روزے ہوں گے کیونکہ قضاء روزوں کے لئے تعیین شرط ہے ۔(خیر الفتاوی ج۴؍۵۸)
{ دسویں فصل }
مریض اور مسافر کا حکم
سوال :کیا مریض اور مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ۔
الجواب حامداً و مصلیاً و مسلماً: اجازت ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے :
فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ و من کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر یرید اللہ بکم الیسر و لا یرید بکم العسر ۔جو شخص اس ماہ میں موجود ہو وہ ضرور اس میں روزہ رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار رکھنا ہے ا للہ ( تعالی ) کو تمہارے ساتھ آسانی کرنا منظور ہے اور تمہارے ساتھ دشواری منظور نہیں ۔ معلوم ہوا کہ مریض اور مسافر کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ۔ لیکن روزے معاف نہیں ہیں ۔ بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا فرض ہے ، اگر زیادہ تکلیف نہ
ہو تو رمضان ہی میں روزہ رکھ لینا ریادہ بہتر اور افضل ہے ۔
(تحفۃ المسلمین ج۱:۲۶۹ از مولانا عاشق الہی بلند شہری ؒ)
سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہے
سوال: سفر میں روزہ رنہ کھنے کی اجازت ہے لیکن اگر کوئی روزہ رکھ لے تو کیا حکم ہے؟
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً:سفر میں اگر تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے تونہ رکھنا افضل ہے اوراگر ایسا سفر ہے جس میں شدت نہیں تو روزہ رکھنا افضل ہے۔
(مختصرا من فتاوی حقانیہ ج۴؍۱۹۱)




مغرب پڑھ کر سفر شروع کیا ایسی جگہ کی طرف جہاں سورج