غروب نہیں ہوا ، اور ایک شخص نے تیس روزے پورے کرکے سفر کیا ایسی جگہ جہاں ایک دو روزہ ابھی باقی ہے۔
سوال: ایک شخص یہاں مغرب کی نماز ادا کرکے ہوائی جہاز کے ذریعہ مکہ پہونچ جائے ، مکہ میں مغرب کی نماز تفاوت وقت کے سبب ابھی نہیں ہوئی ہے ۔کیا پھر دوبارہ اس کو مغرب کی نماز ادا کرنا لازم ہے ؟ علی ہذا مکہ سے روزہ افطا ر کرکے یا عید کی نماز ادا کرکے ہندوستان آیا ہے یہاں لوگ روزہ سے ہیںاور نماز عید ادا نہیں کی ہے اب کیا کرے ، روزہ رکھے عید کی نماز دوبارہ ادا کرے یا نہیں ؟
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً:احتراما للوقت و موافقۃ للمسلمین وہ نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے ، اگرچہ اس کا فریضہ ادا و مکمل ہو چکا ہے ۔
(فتاوی محمودیہ ج۱۰ ؍۳۷)
تتمہ : بندہ کے والد ماجد حضرت مفتی عاشق الہی صاحب بلند شہری مہاجر مدنی رحمہ اللہ علیہ بھی یہی فتوے دیتے تھے اور قرآن پاک سے استدلال فرماتے تھے فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ
ترجمہ: سوجو شخص تم سے اس ماہ میں موجود ہو وہ اس میں روزے رکھے ۔یہ مسافر جس جگہ پہنچا ہے وہاں شہر رمضان موجود ہے لہذا اسکو روزہ رکھنا چاہئے۔
مسافر کو فرض توڑ نے کی اجازت
سوال : زیدفرض روزہ کی نیت کی اور دن کا کچھ حصہ گزر ا تھا کہ وہ اتفاقیہ سفر پر روانہ ہو گیا ، سفر کافی طویل ہے کیا زید اس روزہ کو توڑ دے ؟
الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً : اگر مشقت ہے ، پورا کرنا دشوار ہے تو اس کو توڑ سکتاہے ۔
(فتاوی محمود یہ ج۱۰؍۳۸)
سوال :مسافر نے مشقت کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تواس پر قضا و کفارہ دونوں لازم ہیں یا صرف کفارہ ؟
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً: اس پر صرف قضا لازم ہے کفارہ نہیں ۔
صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو رزوزہ چھوڑنا جائز نہیں
سوال : زید کا دن میں سفر میں جانے کا ارادہ ہے تو اگر وہ سحری کھالے مگر روزہ کی نیت نہ کرے تو جائز ہے