تروابی رضی اﷲ عنہ یؤ مہم فی التراویح کذا
فی السراج الرھاج (عالمگیری ج۱ ص ۷۴ فصل فی التراویح)واﷲ اعلم۔
(فتاوی رحیمیہ ج۶؍ ۲۴۷)
دو امام مل کر تراویح پڑھائیں ؟
سوال: اگر دو امام مل کر تراویح کی نمازپڑھائیں، دس رکعت پہلا امام اور دس رکعت دوسرا امام ، تو کیا اس
طرح تراویح پڑھانا درست ہے
الجواب حامداً و مصلیًا ومسلماً: بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی امام پوری بیس رکعتیں پڑھائے، اگر دو امام پڑھائیں تو مستحب ہے کہ پہلا امام ترویحہ مکمل ہونے پر دوسرے امام کو آگے بڑھائے ، مثلا وہ آٹھ
رکعت پڑھائے اور دوسرا بارہ رکعت یا وہ بارہ رکعت پڑھائے اور دوسرا آٹھ رکعت :’’ الأفضل أن یصلی التراویح بامام واحد ، فان صلوھا بامامین فالمستحب أن یکون انصراف کل واحد علی کمال الترویحۃ ‘‘ الفتاوی الھندیۃ : ۱/۱۱۶۔
(کتاب الفتاوی ج۲؍ ۴۰۲-۴۰۳)
مسئلہ :اگر امام کو ریاح کی بیماری ہو تو امامت سے اجتنا ب کرے ۔دیکھئے البحر الرائق : ۱/۶۳۶۰ ، نیز دیکھئے : بدائع الصنائع : ۱/۳۵۰، الھدایۃ : ۱/۱۲۶۔
تراویح میں نابالغ حافظ کا لقمہ دینا
سوال :کیا فرماتے ہیںعلمائے دین کہ نابالغ بچہ حافظ قرآن کو تراویح کی نمازمیں اس کی غلطی پر لقمہ دے سکتاہے یاکہ نہیں؟
الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً: نابا لغ لڑکا بالغ امام کے بھولنے پر لقمہ دے سکتاہے بشرطیکہ خود بھی
اس نماز میں شریک ہو۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
( ملخصاً من نظام الفتاوی ج۶ ؍ جزء ۱؍۸۱-۸۲)
امام تراویح سامع کا لقمہ لینے تک خاموش رہے تو کیا حکم ہے؟
سوال:ہمارے یہاں تراویح میں حافظ صاحب سے ایک غلطی ہوئی تو پیچھے سے سامع نے لقمہ دیا اور پوری آیت پڑھی اتنی دیر امام صاحب خاموش رہے آیت یہ ہے ۔’’ ام حسبتم ان تترکوا سے خبیر بما تعملون‘‘تک تو سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ اگرواجب