وقدمہ فی متن الملتقی فافاد ترجیحہ علی قول محمد (شامی ۳؍۳۵۹)
۲)… جب آباد کرنے والے مسلمان ہیں تو عشر ہی کے مستحق ہیں نہ کہ خراج کے کیونکہ مسلمانوں کے زیادہ مناسب حال عشر ہی ہے ۔
۳)… عشر کی فرضیت نص قطعی سے ثابت ہے اس کا ثبوت یقینی ہے اور پانی خراجی کی وجہ سے اس کا سقوط ظنی چونکہ یہ صرف ایک روایت غیر مفتی بہ ہے اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا اس لئے عشر کی فرضیت اس شک سے ساقط نہ ہوگی۔
۴)… بعض خاص صورتوں کے علاوہ امام ابویوسف کے قول کو چھوڑ کر امام محمد کے قول پر عمل کرنا اور فتوٰی دینا خرق اجماع ہے جیسا کہ علامہ شامی نے بحث رسم المفتی میں تصریح کی ہے ۔
والفتوی بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذا لم یصحح او یقر وجھہ (شامی ۱؍۵۵)
عشری پانی
فقہاء کی تصریحات کے مطابق عشری پانی چار ہیں
۱)… بارش کا پانی۔
۲)… کنوئیں کا پانی۔
۳)… چشمہ کا پانی۔
۴)… ایسے دریاؤں کا پانی جو کسی کی خاص ملکیت اور ولایت میں داخل نہیں ہیں (جیسے دریائے سندھ ، جہلم ،چناب) ماخوذ شامی۳؍۳۵۹)
خراجی پانی
ان نہروں کا پانی خراجی ہے جن کو کافروں نے کھدوایا ہے اور پھر مسلمانوں کے قبضہ میں بطور غلبہ کے آگئیں ۔
وصلی اﷲتعالٰی علی سیدنا محمد وعلی آلہ وأصحابہ
أجمعین