اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِہِ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
اما بعد!
عام ناظرین کو یہ ملحوظ رہے کہ مجموعہ میں سوال کا جواب معتبر کتب فقہ حنفی کے موافق نہایت تشریح سے دیکھ کر وہ حدیث لکھی گئی ہے جس سے وہ مسئلہ نکالاگیا ہے۔ آپ جب حدیث پر نظر ڈالیں گے تو بغیر کسی کے سمجھائے سمجھ جائیں گے کہ جواب میں جو مسئلہ بتلایا گیا ہے وہ اسی حدیث سے نکلا ہے۔ بعض جگہ دو تین سوال قائم کر کے اُن کے بعد تین چار حدیثیں یا صرف ایک حدیث ایسی لکھ دی ہے جس سے اُن سب کا جواب نکلتا ہے۔ بعض جگہ تقویت اور اعتبار کے لیے یا اور وجوہ سے مناسب سمجھ کر ایک ہی سوال کے جواب میں کئی کئی حدیثیں نقل کر دی گئی ہیں۔
حدیث کا صرف ترجمہ کر دیا گیا ہے اور حتّی الوسع واضح طور سے مطلب سمجھا دیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل عربی عبارت لکھنے سے اُردو خواں حضرات کوکوئی نفع نہ ہوتا اور کتاب زیادہ طویل ہوجاتی۔ ہر حدیث کے آخر میں اُن کتابوں کا نام لکھ دیا ہے جن میں وہ حدیث موجود ہے۔ کسی جگہ ایک ہی دو کتاب کے نام پر اکتفا کیا ہے اور بعض جگہ کسی مصلحت سے اُن تمام کتابوں کا نام لکھ دیا گیا ہے جن میں وہ حدیث مذکور ہوئی ہے۔
یہ وہ مسائل ہیں جن پر نہ کسی کی مہر کی ضرورت نہ دستخط کی حاجت ۔ کیونکہ خود خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد تصدیق کیلئے کافی ہے۔ اور اُن مستند و معتبر مؤلفینِ کتب کا نام اعتبار کیلئے کافی ہے۔ ایسی صاف اور سچی حدیث کو سُن لینے اور اُس کے نیچے اس قدر معتبر کتابوں کا حوالہ موجود ہونے کے بعد کسی دیندار کو جرأت نہیں ہوسکتی کہ اس مسئلہ کی صحت میں شک لائے ۔
اور اہلِ علم کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر کبھی اس رسالے کے ملاحظہ کی نوبت آئے تو یہ خیال فرمائیں کہ صرف عوام کے نفع کی نیت سے مرتب کیا گیا ہے۔ جا بجا الفاظ میں ، ترتیب، تحریر میں، تحریر و ترجمہ میں انہیں کی رعایت مدِّ نظر رہی ہے ۔تاہم کسی ایسی بات کا ارتکاب حتی الوسع نہیں کیا گیا جو بقاعدئہ ابجد میں قابل گرفت ہو۔ ترجمہ بالکل لفظی ہے مگر بامحاورہ ، توضیح تشریح، تقیید جو کچھ کی گئی ہے وہ روایات ِ مختلفہ کے لحاظ سے یا شروح احادیث (عینی، فتح الباری، نووی، مرقات، لمعات) وغیرہ کے اعتبار پر کی گئی ہے۔ جواب مسائل اکثر انہیں کتب سے ماخوذ ہیں یا فقہ کی کتب معتبرہ متداولہ (ہدایہ، درمختار، شامی وغیرہ) سے۔
زیادہ اعتبار اور برکت کے لئے مناسب سمجھ کر ہر روایت کو صحابی راویٔ حدیث کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ اور آخر میں مخرج حدیث یا کتاب کا نام لکھ دیا ہے۔ حدیثیں اگر بعض جگہ صحاحِ ستّہ کے سوا کسی دوسری کتاب کی بھی ہیں تو وہی ہیں جن پر علماء نے اعتبار فرمایا ہے۔ اور کذب و وضع سے ان کو بری سمجھا ہے۔