بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَرْسَلَ اِلَیْنَا الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہ‘ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰبۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ،یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَ عَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہ‘ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ صَلٰوۃ اﷲِ وَ سَلَامُہ‘ عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ الَّذِیْنَ یَھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِہٖ یَعْدِلُوْنَ۔
اما بعد! نصوصِ صریحہ سے ثابت ہے کہ من جملہ اجزائے دین کے تصحیحِ معاملات بھی ہے، بلکہ بعض اعتبار سے یہ اہم الاجزاء ہے۔ مگر ہمارے زمانے میں سب سے زیادہ کوتاہی اور بے التفاتی اس مقدمہ میں واقع ہو رہی ہے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ جو صورتیں اس وقت کثیر الوقوع ہیں ان کے احکام مختصر اور سلیس عبارت میں جمع کر دئیے جائیں۔ تاکہ علم باعثِ عمل ہو۔ ومن اﷲ التوفیق والاعانۃ۔


خرید وفروخت کے احکام
مسئلہ:- آج کل عام رواج ہے کہ نرخ ٹھہرا کر خریدنے والا دام دیتا ہے، اور بیچنے والا چیز دے دیتا ہے، مگر زبان سے ایجاب وقبول نہیں ہوتا، یہ درست ہے۔
مسئلہ:- جو شخص کوئی گھر فروخت کرے تو اس کی دیوار، چھت سب مبیع میں داخل ہوجاویں گی۔ گو ان چیزوں کا علیحدہ علیحدہ نام نہ لیا جائے۔ اسی طرح جس شخص نے کوئی زمین بیچی تو اس میں جس قدر درخت کھڑے ہیں، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، پَھلدار ہوں یا بے پھل کے، سب بیع میں آجاویں گے، اگرچہ تصریحاً ان کا نام نہ لیا جائے۔ البتہ اگر صریح الفاظ سے کہہ دے کہ گھر کی دیواریںل یا چھت یا زمین کے درختوں کو ہم نہیں بیچتے ، اس صورت میں بیع میں داخل نہ ہوں گے، صرف زمین فروخت میں رہے گی۔
مسئلہ:- ایک درخت بیچا جس میں پھل لگ رہا ہے ، تو اگر فروخت میں پَھل کا بھی ذکر کیا ہو تب تو بیع میں داخل ہو کر خریدار کا ہوجاتا ہے، اور اگر اس کا نام نہیں لیا تو بدستور بیچنے والے کا رہے گا۔ اسی طرح جس زمین میں کھیتی کھڑی ہے اور وہ زمین فروخت کر دی تو اگر بیچنے میں تصریحاً کھیتی کا بھی نام لیا گیا تب تو وہ بھی بِک جاوے گی، اور اگر اس کا کچھ ذکر نہیں کیا تو وہ بیچنے والے کی رہے گی۔ البتہ اس صورت میں بائع سے کہا جائے گا کہ اپنا پھل اور کھیتی کاٹ کر زمین خالی کر کے سپرد کرو۔
مسئلہ:- جب تک درخت پر پھل نہ آجائے اس وقت تک اس کے پَھل کا بیچنا