ہیں۔۳؎

۱؎ سیرت ابن ہشام‘ صفحہ ۱۳۷ و ۱۳۸۔ ۲؎ سیرت ابن ہشام‘ بہ حوالہ الرحیق المختوم‘ ص ۱۱۶۔
۳؎ بجائے اس کے کہ کفار و مشرکین اپنی اصلاح کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خیر خواہی اور دعوت حق کو قبول کرتے‘ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جادو زدہ اور جناتی اثرات کا حامل مریض سمجھنا شروع کر دیا (معاذ اللہ) کیسی عجیب بات ہے کہ مریض اپنے معالج کو ہی مریض سمجھ رہا تھا‘ اس سے بڑھ کر دیوانگی اور کیا ہو سکتی ہے!
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ باتیں سن کر جواباً قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر بھجا ہے‘ میں نے اللہ تعالیٰ کے احکام تم کو پہنچا دئیے ہیں‘ اگر تم میری تعلیمات کو قبول کر لو گے تو تمہارے لیے دین و دنیا کی بہتری کا موجب ہو گا‘ اگر انکار پر اصرار کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کروں گا کہ تمہارے لیے کیا حکم صادر فرماتا ہے۔
یہ سن کر کفار نے کہا کہ اچھا اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول ہو تو ان پہاڑوں کو ملک عرب سے ہٹا دو‘ اور ریگستان کو سر سبز بنا دو‘ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر دو اور ان میں قصی بن کلاب کو ضرور زندہ کرو‘ اگر قصی بن کلاب نے زندہ ہو کر تم کو سچا مان لیا اور تمہاری رسالت کو قبول کر لیا تو ہم بھی تم کو رسول اللہ تسلیم کر لیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کاموں کے لیے رسول نہیں بنایا میرا کام یہ ہے کہ تم کو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے احکام جو مجھ پر نازل ہوتے ہیں سنادوں اوراچھی طرح سمجھا دوں ‘ میں اپنے اختیار سے خود کچھ نہیں کر سکتا‘ اس قسم کی باتیں ہونے کے بعد سردارن قریش ناراض اور برا فروختہ ہو کر اٹھے اور ابوطالب کو بھی مقابلہ اور مخالفت کے لیے چیلنج دے کر چل دئیے۔
سردارن قریش کے چلے جانے کے بعد ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ بھتیجے! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور اپنے اندر قریش کے مقابلہ کی طاقت نہیں پاتا تم مجھے ایسی محنت میں مبتلا نہ کرو جو میری طاقت و استطاعت سے بڑھ کر ہو‘ مناسب یہ ہے کہ تم اپنے دین کا اعلان اور بتوں کی علانیہ برائیاں بیان کرنا ترک کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر فرمایا کہ چچا اگر میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں اپنے کام سے باز نہیں رہ سکتا۔
ابوطالب کی باتوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ شبہ گذرا کہ اب یہ میری حمایت سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں‘ ابوطالب سردارن مکہ میں سب سے زیادہ عزت و جاہت رکھتے اور قبیلہ بنی ہاشم کے مسلمہ سردار سمجھے جاتے تھے‘ ان کی وجہ سے مخالفین آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر حملہ کرتے ہوئے ججھکتے تھے اور ان کو خطرہ تھا کہ اگر بنو ہاشم سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی امداد پر اٹھ کھڑے ہوئے تو معاملہ بہت ہی نازک ہو جائے گا۔ لہذا ابوطالب کی حمایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بہت کچھ تقویت حاصل تھی‘ اب یہ مایوسانہ باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل بھر آیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ کہہ کر ابوطالب کے پاس سے چشم پر آب اٹھے اور چل دیے کہ ’’چچا! میں اپنے کام کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا کام پورا نہ ہو جائے‘ یا یہی کام کرتے ہوئے میں ہلاک نہ ہو جائوں۔‘‘
ابوطالب پر اس کا بہت اثر ہوا‘ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پھر واپس بلا کر کہا کہ اچھا تم ضرور اپنے کام میں مصروف رہو‘ جب تک میرے دم میں دم ہے میں