حقوق الاسلام

اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ شَرّفَنَا فِي كِتَابِهٖ بِقَوْلِهٖ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِﭼ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ سَيِّدِنَا مُحَمَّدِ الَّذيْ اِيْقَظَنَا بِقَوْلِهٖ «مَنْ كَانَ لَهٗ مَظْلَمَۃٌ لِّاَخِيْهِ مِنْ عِرْضِهٖ اَو مَالِهٖ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهِ قَبْلَ اَنْ لَّا يَكُوْنَ دِيْنَارٌ وَّلَا دِرْھِمٌ» اَي يَوْمَ الْفَصْلِ وَعَلٰي آلِهٖ وَ اَصْحَابِهِ الَّذِيْنَ وَصَلُوْا كُلَّ فَرْعٍ اِلَي الْاَصْلِ۔
بعد حمد وصلوٰۃ واضح ہو کہ نقلاً و عقلاً ىہ امر ثابت ہے کہ ہم لوگوں سے کچھ حقوق کا مطالبہ کىا گىا ہے جس مىں بعض حقوق اللہ تعالىٰ کے ہىں اور بعض بندوں کے۔ اور بندوں کے حقوق مىں سے بعض دىنى ہىں اور بعض دنىوى ، پھر دنىوى مىں بعضے حقوق اقارب کے ہىں بعض اجانب کے، اور بعض حقوق خاص لوگوں کے ہىں بعض عام مسلمانوں کے، بعض اپنے سے بڑوں کے ہىں بعض چھوٹوں کےبعض مساوى درجہ والوں کے ،وعلىٰ ہٰذا القىاس۔
اور بوجہ لاعلمى کے اکثر لوگوں کو بعضے حقوق کى اطلاع بھى نہىں اور بعض کوبوجہ بدعملى ان کے ادا کرنے کا اہتمام نہىں۔ اس لىے دل نے چاہا کہ اىک مختصر