الآخر،اذاوقعت نجاسة فی احدجانبیہ جازالوضوء من الجانب الآخر) ١ لان الظاھر ان النجاسة لا تصل الیہ اذا ثر التحریک فی السرایة فوق اثر النجاسة، ٢ ثم عن ابی حنیفة انہ یعتبرالتحریک بالاغتسال، وھوقول ابی یوسف،وعنہ بالتحریک بالید، وعن محمد بالتوضی، ووجہ الاول ان الحاجة الیہ فی الحیاض اشد منھا الی التوضی٣ وبعضھم قدروابالمساحة، عشراً فی عشر بذراع

کنارے میں ناپاکی گر جائے تو دوسری جانب وضو کرنا جائز ہے۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ ناپاکی وہاں تک نہیں پہنچے گی۔اسلئے کہ حرکت دینے کا اثر سرایت کرنے میں نجاست کے اثر سے زیادہ ہے ۔
وجہ : اتنا لمبا چوڑا تالاب ہو کہ ایک جانب اس کے پانی کو حرکت دے تو اس حرکت کا اثر دوسری جانب نہ پہنچے ۔تو جب حرکت کا اثر نہیں پہنچتا ہے تو نجاست کا اثر دوسری جانب کیسے پہنچے گا۔جبکہ حرکت کا اثر تیز ہوتا ہے اور نجاست کا اثر دھیما ہوتا ہے۔ اس لئے دوسری جانب پاک رہے گا۔ اور دوسری جانب وضو اور غسل کرنا جائز ہوگا۔
ترجمہ: ٢ پھر امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ غسل کرنے کے ذریعہ سے حرکت دینے کا اعتبار کیا جائے گا ۔اور یہی قول امام ابو یوسف کا ہے ۔اور انہیں سے ایک روایت یہ ہے کہ ہاتھ سے حرکت دینے کا اعتبار کیا جائے گا ۔او ر امام محمد سے منقول ہے کہ وضو کے ذریعہ سے حرکت دینے کا اعتبار کیا جائے گا ۔پہلے کی دلیل یہ ہے کہ حوضو ں میں غسل کرنے کی ضرورت زیادہ ہے بنسبت وضو کرنے کے ۔
تشریح: امام ابو حنیفہ کی رائے ہے کہ حوض میں غسل کر کے حرکت دے کر دیکھو کہ اگر اسکی حرکت ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ جائے تو وہ چھوٹا تالاب ہے اور غسل کی حرکت دوسرے کنارے تک نہ پہنچے تو وہ بڑا تالاب ہے ۔کیونکہ بڑے تالاب میں غسل ہی کرنے کی ہی زیادہ ضرورت پڑتی ہے اسلئے اسی سے حرکت دینے کا اعتبار ہے ۔او ر امام ابو یوسف کی ایک روایت تو یہی ہے ،البتہ دوسری روایت یہ ہے کہ ہاتھ سے حرکت دے کر دیکھو ۔اسکی حرکت کا اعتبار ہے ۔اور امام محمد کی رائے یہ ہے کہ وضو کرکے دیکھو کہ اسکی حرکت دوسرے کنارے تک پہنچتی ہے یا نہیں اگر پہنچ جائے تو وہ چھوٹا تالاب ہے اور اگر نہ پہنچے تو وہ بڑا تالاب ہے ۔کیونکہ حوض میں وضو کرنے کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے ۔ اس بڑے تالاب میں اگر نجاست گر جائے تو جب تک رنگ ،یا بو ،یا مز ہ نہ بدل جائے تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوگا۔
ترجمہ: ٣ اور بعض ائمہ نے اسکا اندازہ ناپ کر لگایا ،دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا کپڑے کے ہاتھ سے ۔لوگوں پر معاملے کو آسان کرنے کے لئے ۔ اور اسی پر فتویٰ ہے ۔