الکرباس توسعة للامر علی الناس، وعلیہ الفتویٰ

تشریح: بعض اماموں نے بڑے تالاب کو حرکت دیکر متعین کرنے کے بجائے ہاتھ سے ناپ کر متعین کیا ہے ،تاکہ لوگوں کو ہاتھ سے ناپ کر بڑا تالاب متعین کرنے میں آسانی ہو ۔اور وہ یہ ہے کہ دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا ہو تو اسکو بڑا تالاب کہتے ہیں ۔اور دس کو دس میں ضرب دیں تو سو مربع ہاتھ ہو گیا ہو ۔یعنی سو مربع ہاتھ ہو تو بڑا تالاب شمار کیا جائے گا ۔اس اثر میں اسکا اشارہ ملتا ہے۔ قال ابوداود : و قدرت انا بئر بضاعة بردائی مددتہ علیھا ثم ذرعتہ فاذا عرضھا ستة أذرع ۔(ابوداود شریف، باب ماجاء فیبئر بضاعة ،ص ١١ ،نمبر ٦٧ ) اس اثر میں امام ابوداود نے بئر بضاعة کو ناپا تو وہ چھ ہاتھ تھا اوراسکے بارے میں حضور نے فرما یا ہے کہ نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہو تا ۔اس سے استدلال کرتے ہوئے حنفیہ نے مزید احتیاط فرمایا اور دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا کا مسلک اختیار کیا ۔
ایک ہاتھ ڈیڑھ فٹ کا ہو تا ہے ،یعنی اٹھارہ (18) انچ کا ہو تا ہے ،اس اعتبار سے دس ہاتھ لمبا پندرہ فٹ لمبا ہوا اور وہی پندرہ فٹ چوڑا ہوا ۔اور پندرہ کو پندرہ میں ضرب دیں تو دو سو پچیس (225) مربع فٹ بڑا تالاب ہوا ۔نوٹ:۔ لمبائی اور چوڑائی کو ضرب دینے سے مربع نکلتا ہے۔
ایک ہاتھ آدھے گز کا ہو تا ہے ۔اسلئے دس ہاتھ پانچ گز کا ہوا ۔اسلئے پانچ گز لمبا اور پانچ گز چوڑا بڑا تالاب ہوا ۔جسکا مربع (25) گز ہوگا ۔
ایک ہاتھ 0.4572میٹر کا ہو تا ہے اسلئے دس ہاتھ 4.572میٹر لمبا ہوا ۔اور وہی 4.572 میٹر چوڑا ہوااور مجموعہ 20.903مربع میٹر ہوا۔
اور اگر کوئی حوض ،یا کنواں گول ہو تو اسکے بیچ کا قطر6.92 فٹ ہو نا چاہئے ۔اور میٹر کے اعتبار سے 5.15میٹر قطر ہونا چاہئے ۔

(بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں )

کیا کتنے کا ہوتا ہے کیا کتنے کا ہوتا ہے
ایک انچ 2.54 سینٹی میٹر کا ہوتا ہے۔ ایک قبضہ 7.62 سینٹی میٹر کا ہوتا ہے۔
ایک میٹر 39.37 انچ کا ہوتا ہے۔ ایک قبضہ 4 انگلیوں کا ہو تا ہے ۔