١ لانھا تفوت الی خلف وھوالظھر، بخلاف العید (١٠٢) وکذا اذا خاف فوت الوقت لو توضأ لم یتیمم و یتوضأ و یقضی ما فاتہ) ١ لان الفوات الی خلف وھو القضاء (١٠٣)والمسافر اذا نسی الماء فی رحلہ فتیمم و صلی ثم ذکر الماء لم یعد ھا عند ابی حنیفة و محمد، و قال ابو یوسف یعیدھا)

وجہ: جمعہ فوت ہو جائے تو اس کا خلیفہ ظہر کی نماز ہے۔ اس لئے جمعہ کا فوت ہونا مکمل فوت ہونا نہیں ہے ۔اس لئے تیمم نہیں کریگابلکہ وضو ہی کرے گا۔ پس اگر جمعہ مل گیا تو وہ پڑھے ورنہ اس کا خلیفہ ظہر پڑھے ۔اس اثر سے استدلال ہے ۔سئل عن الحسن عن رجل احدث یوم الجمعة فذھب لیتوضأ فجاء وقد صلی الامام قال یصلی اربعا (مصنف ابن ابی شیبة ٤٠٨الرجل یحدث یوم الجمعة، ج اول، ص ٤٨٤، نمبر ٥٥٧٩) اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے لئے وضو کرے، پس اگر وہ مل جائے تو جمعہ پڑھے ورنہ تو چار رکعت ظھر پڑھے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ جمعہ فوت ہو تا ہے خلیفہ چھوڑ کر اور وہ ظھر ہے بخلاف نماز عید کے ۔
تشریح : جمعہ فوت ہو جائے تو اسکا خلیفہ ظھر ہے اسلئے گویا کہ وہ فوت نہیں ہوا اسلئے اسکے لئے تیمم نہ کرے ، بخلاف نماز عید کے کہ اسکا کوئی خلیفہ نہیں ہے اسلئے اسکے فوت ہو نے کا خوف ہو تو تیمم کر کے نماز عید پڑھ لے
اصول: جو نماز فوت ہو جائے اور اس کا نائب نہ ہو اس کے لئے تیمم کر سکتا ہے اور جس کا نائب ہو اس کے لئے تیمم نہ کرے۔
ترجمہ: (١٠٢) ایسے ہی اگر وقت تنگ ہو جائے ۔پس ڈر ہو کہ اگر وضو کرے گا تو وقت فوت ہو جائے گا۔پھر بھی تیمم نہ کرے بلکہ وضو کرے اور نماز قضا کرکے پڑھے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ فوت ہو نا خلیفہ کی طرف ہے ، اور وہ قضا پڑھنا ہے ۔
تشریح : کسی نے نماز میں اتنی تاخیر کی کہ وقت تنگ ہو گیا ، اب اگر وضو کر نے جاتا ہے تو نماز ادا نہیں پڑھ سکے گا قضا پڑھے گا ، اور تیمم کر کے نماز پڑھے گا تو ادا پڑھ سکے گا ، ایسی صورت میں وہ تیمم کر کے ادا نہ پڑھے بلکہ وضو کرے اور قضا پڑھے ۔
وجہ:۔ یہاں وقت تنگ ہونے کی وجہ سے نماز قضا ہوگی۔اور قضا اداکا خلیفہ ہے ۔اس لئے نماز مکمل فوت نہیں ہوئی۔ اس لئے وضو کرے گا۔اور وقت فوت ہو گیا تو قضا نماز پڑھے گا۔ اصول اوپر گزر گیا ۔
ترجمہ: (١٠٣) اگرمسافر پانی اپنے کجاوہ میں بھول گیا اور تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر وقت میں پانی یاد آیا تو اپنی نماز نہیں لوٹا ئیگاامام ابو حنیفہ اور محمد رحمھما اللہ کے نزدیک ۔اور امام ابو یوسف نے فرمایا نماز لوٹا ئے گا۔
تشریح : مسافرکے کجاوے میں پانی تھا لیکن بھول کر تیمم کر لیا اور نماز پڑھ لی تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ دوبارہ وضو