١ والخلاف فیما اذا وضعہ بنفسہ او وضعہ غیرہ بامرہ ، وذکرہ فی الوقت و بعدہ سواء ٢ لہ انہ واجد للماء فصارکما اذا کان فی رحلہ ثوب فنسیہ٣ ولان رحل المسافر معدن للماء عادة فیفترض الطلب

کرکے نمازلوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کجاوہ میں عموما پینے کاپانی رکھتے ہیں ، استعمال کرنے کے لئے اور وضو کرنے کے لئے پانی نہیں رکھتے اسلئے اگر پانی بھول گیا تو وہ معذور ہے اسلئے وضو کرکے دوبارہ نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ کجاوہ پانی یاد دلانے والا نہیں ہے ۔
اصول : کجاوہ کی حالت پانی کو یاد دلانے والی نہیں ہے۔
ترجمہ: ١ اور اختلاف اس صورت میں ہے کہ پانی کو خود رکھا ہو ، یا دوسرے نے اسکے حکم سے رکھا ہو ، پھر وقت میں یاد آیا ہو یا وقت کے بعد یاد آیا ہو دونوں برابر ہیں ۔
تشریح : کجاوے میں پانی خود رکھا ہو یا اسکے حکم سے رکھا تب تو یہ اختلاف ہے کہ نماز لوٹائے یا نہیں ، لیکن اگر اسکو بتلائے بغیر کسی اور نے پانی اسکے کجاوے میں رکھا ہو اور اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو بعد میں معلوم ہو نے کے بعد نماز نہیں لوٹائے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکو کیا پتہ کہ اسکے کجاوے میں پانی ہے اسلئے یہ پانی پانے والا نہیں ہوا اسلئے یہ معذور ہے اسلئے اسکو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٢ امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ مسافر پانی کو پانے والا ہے تو ایسا ہو گیا جیسا کہ کجاوے میں کپڑا ہو اور بھول گیا ہو ۔ تو دوبارہ نماز پڑھنی پڑتی ہے ایسے ہی یہاں دوبارہ نماز پڑھنی ہو گی ۔
تشریح : امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اسکے کجاوے میں حقیقت میں پانی تو ہے اسلئے یہ پانی پانے والا ہے اسلئے بھول کر نماز پڑھ لی تو نماز دہرانی ہو گی ۔ جس طرح کجاوے میں کپڑا موجود ہواور بھول کر کپڑے کے بغیر نماز پڑھ لی تو کپڑا پہن کر اور ستر ڈھانک کر دوبارہ نماز پڑھنی ہو گی ، اسی طرح یہاں وضو کرکے نماز دہرانی ہو گی ۔یہ دلیل عقلی ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور اسلئے کہ مسافر کا کجاوہ عادة پانی رکھنے کی جگہ ہو تی ہے اسلئے تلاش کر نا فرض ہو گا ۔
تشریح : یہ امام ابو یوسف کی دوسری دلیل عقلی ہے ۔ کہ مسافر کا کجاوہ عادة پانی رکھنے کی جگہ ہو تی ہے اسلئے اسکو ایک مرتبہ کجاوہ تلاش کر لینا چاہئے لیکن بغیر تلاش کئے تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو یہ اسکی غلطی ہے اسلئے اسکو پانی پانے والا قرار دیکر نماز دہرانی ہوگی۔
اصول: کجاوہ کی حالت پانی کو یاد دلانے والی ہے۔