٤ ولھماانہ لاقدرةبدون العلم وھی المرادبالوجود ٥ و ماء الرحل معدن للشرب لا للاستعمال،
٦ و مسألة الثوب علی الاختلاف، و لو کان علی الاتفاق ففرض الستر یفوت لا الی خلف، و الطھارة بالماء تفوت الی خلف و ھو التیمم۔ (١٠٤) و لیس علی المتیمم طلب الماء اذا لم یغلب

ترجمہ: ٤ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ بغیر علم کے اسکوقدرت نہیں ہے اور پانی کے پانے سے یہی مراد ہے ۔
تشریح : یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جب بھول گیا تواسکو پانی کا علم ہی نہیں ہے ، اور آیت میں پانی پانے کا مطلب یہ ہے کہ اسکو پانی کا علم ہو اسلئے وہ پانی پانے والا نہیں ہوا اسلئے نماز نہیں دہرائے گا ۔
ترجمہ: ٥ اور کجاوے کا پانی پینے کا معدن ہے استعمال کے لئے نہیں ۔
تشریح : یہ امام ابو یوسف کو جواب ہے ، انہوں نے فرمایا تھا کہ کجاوہ پانی کا معدن ہے ، تو جواب دیتے ہیں کہ معدن تو ہے لیکن پینے کے پانی کامعدن ہے وضو کے پانی کا معدن نہیں ہے ، اسلئے آدمی کو خیال بھی نہیں آسکتا ہے کہ کجاوے میں وضو کا پانی ہے اسلئے پانی بھول گیا تو وہ معذور ہے ۔
ترجمہ: ٦ اور کپڑے کا مسئلہ اختلاف پر ہے ، اور اگر اتفاق پر بھی ہو تو دونوں میں فرق یہ ہے کہ ستر کا فرض فوت ہو گا اور اسکا کوئی خلیفہ نہیں ہے اور پانی سے طھارت فوت ہو گا خلیفہ چھوڑ کر اور وہ تیمم ہے ۔
تشریح : یہ بھی امام ابو یوسف کے استدلال کا جواب ہے ، انہوں نے استدلال کیا تھا کہ کجاوے میں کپڑا بھول جائے اور نماز پڑھ لے تو نماز دہرانی پڑتی ہے ، اسی پر قیاس کرتے ہو ئے کجاوے میں پانی بھول جائے تو نماز دہرانی چاہئے ۔ اسکا جواب دیتے ہیں کہ کپڑے کے بارے میں بھی ہماری رائے یہی ہے کہ بھول کر بغیر ستر ڈھانکے نماز پڑھ لے تو اسکو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ، اور مسئلہ اختلاف پر ہے ، لیکن اگر مسئلہ اتفاق پر ہو اور کپڑا بھولنے پر اور ستر ڈھانکے بغیر نماز پڑھنے پر نماز دہرانی پڑے تو دونوں میں فرق یہ ہے کہ ستر ڈھانکنا چھوڑ دیا تو اسکا کوئی بدل نہیں ہے ، اور وضو کرنا چھوڑ دیا تو اسکا بدل تیمم موجود ہے کہ اسنے تیمم کر کے نماز پڑھی ہے تو چونکہ خلیفہ پر عمل کیا ہے اسلئے نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اصول: یہ مسئلہ اصول پر مبنی ہے کہ پانی کا بھولنا عذر ہے یا نہیں ۔ طرفین کے نزدیک عذر ہے ، اور امام ابو یوسف کے نزدیک عذر نہیں ہے۔
لغت : رحل : کجاوہ۔معدن : کسی چیز کے رہنے کی جگہ ۔خلف : خلیفہ ۔
ترجمہ: (١٠٤) تیمم کرنے والے پر پانی تلاش کرنا ضروری نہیں ہے جب کہ اس کو غالب گمان نہیں ہے کہ اس کے قریب پانی ہے ۔