(کتاب الصلوة)
(باب المواقیت)
(١٨٤) اوّل وقت الفجر اذطلع الفجرالثانی وہوالمعترض فی الافق واٰخروقتہا مالم تطلع

( کتاب الصلوة )
ضروری نوٹ: صلوة کے لغوی معنی دعا ہے۔شریعت میں ارکان معہودہ کو صلوة کہتے ہیں۔ صلوة کے فرض ہونے کی دلیل قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں ۔ مثلا ان الصلوة کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا۔ (آیت ١٠٣ سورة النساء ٤) (٢) نماز فرض ہونے کی دلیل حدیث میں یہ ہے ۔ کان ابو ذر یحدث أن رسول اللہ ۖ قال فرج عن سقف بیتی و أنا بمکة .....قال النبی ۖ : ففرض اللہ علی امتی خمسین صلاة فرجعت بذالک حتی مررت علی موسی ٰ ....قال : ھن خمس و ھن خمسون ، لا یبدل القول لدی ّ ۔ ( بخاری شریف ، باب کیف فرضت الصلاة فی الاسراء ، ص ٥٠، نمبر ٣٤٩) اس حدیث میں ہے کہ پانچوں نمازیں کیسے فر ض ہوئیں
نوٹ : نماز اہم عبادت ہے اور طہارت اس کے لئے شرط ہے ۔اس لئے طہارت کو مقدم کیا۔ اب طہارت کے ابحاث ختم ہونے کے بعد نماز کے مسائل کو شروع فرمایا
وقت : وقت نماز کے لئے شرط ہے اگر وقت نہ ہوا ہو تو نماز ہی واجب نہیں ہوتی۔ وقت آنے پر ہی نماز واجب ہوتی ہے۔ وجوب کی اصل وجہ تو اللہ کا حکم ہے لیکن ہم اللہ کے ہر وقت کے حکم کو نہیں سن پاتے اس لئے علامت کے طور پر وقت کو رکھ دیا کہ جب وقت آئے تو سمجھ لو کہ حکم آگیا اور نماز شروع کرو۔ وقت کی دلیل اوپر کی آیت ہے۔
ترجمہ: (١٨٤) فجر کا اول وقت جب کہ صبح صادق طلوع ہو جائے ،فجر ثانی وہ افق میں پھیلی ہوئی سفید روشنی ہے اور فجر کا آخری وقت جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جائے۔
تشریح : اوپر کی آیت سے پتہ چلا کہ پانچوں نمازیں وقت کے ساتھ فرض ہیں اسلئے وقت کی بحث کو لا رہے ہیں اور پانچوں اوقات کا تعین کر رہے ہیں ۔ ان میں سے سب سے پہلے فجر کے وقت کو بتا رہے ہیں کہ جب صبح صادق شروع ہو جائے اس وقت سے فجر کا وقت شروع ہو تا ہے اور جب سورج نکل جائے تو اسکا وقت ختم ہو جاتا ہے
وجہ : فجر کی نماز فرض ہونے کی دلیل یہ آیت ہے وسبح بحمدک ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا ومن اٰناء اللیل فسبح واطرافھا النہار لعلک ترضی (آیت ١٣٠ سورہ طہ ٢٠) بلکہ اس آیت میں تمام نمازوں کے اوقت کی طرف اشارہ ہو گیا۔اور نماز فجرکے وقت کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ۔ باقی دلیل آگے آرہی ہے ۔