او منبتًا للحشیش یجب فیہا العشر ١٦ والمراد بالمذکور القصب الفارسی اما قصب السکّر وقصب الذریرة ففیہما العشر لانہ یقصد بہما الاستغلال الارض١٧ بخلاف السَعَف والتبن لان المقصود الحبّ والثمر دونہما

صاف کیا جا تا ہے ، حتی کہ اگر مالک نے اس کو نرکل کا کھیت یا ایندھن کے درختوں کا باغ یا گھاس لگانے کی جگہ بنا لی ہے تو اس میں عشر واجب ہو گا ۔
تشریح : ایندھن کی لکڑی اور نرکل اور گھاس کی کوئی قیمت نہیں ہو تی ، اور لوگ اس کو عام طور پرباغ سے صاف کر تے ہیں ، اس لئے خود بخود یہ چیزیں باغ میں نکل آئیں تو اس میں عشر نہیں ہو گا ، چنانچہ اگر مالک نے با ضابطہ ان چیزوں کی کھیتی کی تو اس میں عشر واجب ہوگا ۔
لغت : تنقی : صاف کر نا ۔ مقصبة : قصب سے مشتق ہے نرکل بو نے کی جگہ ۔مشجرة : درخت اگانے کی جگہ۔منبتا للحشیش : گھاس اگانے کی جگہ۔
ترجمہ: ١٦ اور متن میں قصب سے مراد فارسی نرکل ہے ، بہر حال گنا اور چرائتہ تو ان دو نوں میں عشر واجب ہے ، اس لئے کہ ان دو نوں سے زمین کی پیداوار مقصود ہے ۔
تشریح : متن میں قصب کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس کا مطلب بتا رہے ہیں ۔ قصب کا معنی ہے بانس ، لیکن تین چیزوں پر اس کا اطلاق ہو تا ہے ۔ ]١[ اس کا اطلاق قصب الفارسی پر ہو تا ہے ، جسکا معنی ہے نرکل ، اس سے قلم بنا یا جا تا ہے ، اور جلانے کے کام میں آتا ہے ، یہ گھاس پھونس ہے اس لئے اس میں عشر نہیں ، جب تک کہ با ضابطہ مالک اس کی کھیتی نہ کرے ۔ ]٢[ دوسرا اس کا اطلاق ہو تا ہے گنے پر جسکو قصب السکر کہتے ہیں ۔ یہ تو قیمتی چیز ہے اس لئے اس کی پیدوار پر عشر ہے ۔ ]٣[ تیسرا اس کا اطلاق ہے ٫ قصب الذریرة، پر جس کا معنی ہے چرائتہ ، یہ مزے میں بہت تیکھا ہو تا ہے اور خون کی بیماریوں کی تمام دواؤں میں یہ کام آتا ہے ، اس اعتبار سے یہ قیمتی ہے ، اس لئے اس کی پیداوار میں بھی عشر ہے ، کیونکہ لوگ اس کی کھیتی کر نا چاہتے ہیں ، اور قیمتی ہے ۔ ۔استغلال : غلہ سے مشتق ہے ، غلہ اگا نا ، پیداوار کر نا ۔
ترجمہ: ١٧ بر خلاف کھجور کی شا خوں اور بھوسے کے ، کیونکہ اس میں مقصود دانہ اور چھوارہ ہے نہ کہ بھوسا اور شاخیں ۔
تشریح : اس عبارت میں ایک اصول بیان فر ما رہے ہیں ، کہ مالک ایک چیز کو قصد اور ارادے سے پیدا کر نا چاہتا ہے اور قیمتی بھی ہے تو اس میںعشر واجب ہو گا جیسے دانہ اور کھجور کہ مالک ان کو پیدا کر نا چا ہتا ہے اور قیمتی ہیں ، اس لئے ان میں عشر ہے ، اور اس کے ساتھ کھجور کی شاخیں بھی ہو تیں ہیں ، لیکن مالک اس کو ارادے اور قصد سے پیدا کر نا نہیں چاہتا ، اور قیمتی بھی نہیں تو اس میں عشر نہیں ہو