٤ وفیہ امتناع عن تحصیل الجزء الحر لا ارقاقہ ولہ ان لایحصل الاصل فیکون لہ ان لایحصل الوصف (١٥١٨) ولایتزوج امة علی حرة ) ١ لقولہ علیہ السلام لاتنکح الامة علی الحرة

ثبوت ہے ۔ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنٰی و ثلٰث و ربٰع ( آیت ٣، سورة النساء ٤) اس آیت میںہے کہ محرمات کے علاوہ جو عورت ہے اس سے نکاح جائز ہے ، جسکا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی قید کے کتابیہ باندی سے نکاح جائز ہے ۔ اور امام شافعی نے جو آیت پیش کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد مومنہ پر نکاح کی قدرت رکھتے ہوئے باندی سے شادی کر نا اتنا اچھا نہیں ہے تاہم جائز ہے ۔
ترجمہ : ٤ اور اس میں ]باندی سے نکاح کر نے میں [ آزاد جز حاصل کر نے سے رکنا ہے ، جز کو غلام بنا نا نہیں ہے ، اور مرد کے لئے جائز ہے کہ بالکل اولاد ہی کو حاصل نہ کرے ، تو اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ آزادگی کے وصف کو حاصل نہ کرے۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ، انہوں نے فر ما یا تھا کہ باندی سے شادی کر نا اپنی اولاد کو غلامیت کے لئے پیش کر نا ہے ، اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ غلامیت پر پیش کر نا نہیں ہے ، بلکہ آزاد سے شادی نہ کر کے آزاد اولاد حاصل کر نے سے رکناہے ، یعنی یوں کہئے کہ آزاد اولاد حاصل نہیں کر نا چا ہتا ، اور انسان کے لئے یہ اجازت ہے کہ وطی کے وقت عزل کر کے بالکل اولاد ہی حاصل نہ کرے ، تو اس کی گنجائش بدرجہ اولی ہو گی کہ وہ آزاد صفت والی اولاد حاصل نہ کرے ، بلکہ غلام صفت والی اولاد حاصل کر لے ، اس لئے کتابیہ باندی سے شادی جائز ہو گی ۔
لغت: ضروری : مجبوری کے درجے میں ۔ الرق : غلامیت ۔ طول : آزاد سے نکاح کر نے کی طاقت ۔ مقتضی : اس کا تقاضا یہ ہے ۔ اصل : اصل اولاد ۔ الوصف : آزاد وصف والی اولاد ۔
ترجمہ : ( ١٥١٨) اور آزاد عورت پر باندی سے شادی کر نا جائز نہیں ہے ۔
ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے آزاد پر باندی سے شادی نہ کرے
تشریح : نکاح میں آزاد عورت ہو تو اس پر باندی سے نکاح کر نا جائز نہیں ہے ،حضور کے قول کی وجہ سے ،
وجہ : (١) صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے۔ عن عائشة قال قال رسول اللہ ۖ ....تتزوج الحرة علی الامة و لا تتزوج الامة علی الحرة ۔ ( دار قطنی ، باب کتاب الطلاق ، ج رابع ، ص ٢٦، نمبر ٣٩٥٧ سنن بیہقی ، باب لا تنکح امة علی حرة و تنکح الحرة علی الامة ، ج سابع ، ص٢٨٤، نمبر١٤٠٠١ ) اس حدیث میں ہے کہ آزاد عورت نکاح میں ہو تو اس پر باندی سے شادی نہ کرو ۔(٢) عن جابر بن عبد اللہ انہ قال لا تنکح الامة علی الحرة و تنکح الحرة علی الامة ، و من وجد صداق حرة فلا ینکحن امة ابدا ۔ ( سنن بیہقی ، باب لا تنکح امة علی حرة و تنکح الحرة علی الامة ، ج سابع ، ص ٢٨٥، نمبر ١٤٠٠٤ ) اس اثر میں