(کتاب النکاح)
قال (١٤٨١)النکاح ینعقد بالایجاب والقبول بلفظین یعبر بہما عن الماضی )

(کتاب النکاح )
ضروری نوٹ: نماز،زکوة، روزہ ،اور حج خالص عبادات ہے ، ان سے فارغ ہوئے تو مصنف نے قدوری کے متن کے خلاف نکاح کو شروع کیا ، کیونکہ نکاح ایک اعتبار سے عبادت ہے ، اور ایک اعتبارسے بیوی اور شوہر کے درمیان معاملات ہے ، چونکہ یہ عبادت بھی ہے اور معاملات بھی اس لئے عبادت کے بعد لائے اور کتاب البیوع جو خالص معاملات ہے اس سے پہلے لائے۔قدوری میں کتاب النکاح ، کتاب البیوع کے بعد ہے ۔
نکاح کے معنی عقد ہیں یا وطی ہیں۔میاں بیوی شادی کا عقد کرے اس کو نکاح کہتے ہیں۔(١)اس کا ثبوت اس آیت میں ہے ۔وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی وثلث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنی الا تعولوا۔ (آیت ٣ ،سورة النساء ٤) اس آیت میں نکاح کا ثبوت بھی ہے اور زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے شادی کر سکتا ہے اس کا بھی ثبوت ہے (٢) حدیث میں ہے ۔عن عبد الرحمن بن یزید ... قال لنا رسول اللہ ۖ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ة فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وِجاء (بخاری شریف ، باب من لم یستطع البائة فلیصم ص ٧٥٨ نمبر ٥٠٦٦ مسلم شریف ، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ ووجد مؤنة الخ ،ص ٤٤٨ نمبر ٣٣٩٨١٤٠٠) اس حدیث سے نکاح کرنے کی ترغیب معلوم ہوئی۔
ترجمہ (١٤٨١) نکاح منعقد ہوتا ہے ایجاب اور قبول کے ایسے دو لفظوں سے کہ ان دونوں کو تعبیر کیا گیا ہو ماضی سے۔
تشریح : اس عبارت میں دو باتیں ذکر کی گئی ہیں ۔ایک بات تو یہ ہے کہ نکاح عقد ہے اور عقد ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتا ہے۔اس لئے نکاح ایجاب اور قبول سے منعقد ہوگا۔
وجہ : (١) اصول یہ ہے کہ دونوں کی رضامندی ہو تب عقد منعقد ہوگا۔اور دونوں کی رضامندی ایجاب اور قبول سے ظاہر ہوگی۔اس لئے ایجاب اور قبول ہو تب نکاح منعقد ہوگا(٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے کہ حضورۖ نے حضرت عمر سے گھوڑا خریدنے کے لئے ایجاب کیا اورحضرت عمر نے قبول کیا جس کے نتیجے میں بیع منعقد ہوئی۔عن ابن عمر قال کنا مع النبی ۖ فی سفر فکنت علی بکر صعب لعمر ... فقال النبی ۖ لعمر بعنیہ قال ھو لک یا رسول اللہ۔ (بخاری شریف، باب اذا اشتری شیئا فوھب من ساعتہ قبل ان یتفرقا ص ٢٨٤ نمبر ٢١١٥) اس حدیث میں حضور ۖنیبعنیہ کہہ کر ایجاب کیااور حضرت عمر نے ھو لک یا رسول اللہ ! کہہ کر قبول کیا۔اس لئے کسی بھی عقد میں ایجاب اور قبول ضروری ہیں(٣) خود نکاح میں