المقبوض فیکون القول للقابض کما ف الغصب ٢ وکذا ذا اتفقا علی مقدار المبیع واختلفا ف المقبوض لما بینا.(٩٥) قال ومن اشتری عبدین صفقة واحدة فقبض أحدہما ووجد بالآخر عیبا فنہ یأخذہما أو یدعہما ١ لأن الصفقة تتم بقبضہما فیکون تفریقہا قبل التمام وقد ذکرناہ

اصول : بات مدعی علیہ کی اور امین کی مانی جاتی ہے۔
لغت : کما فی الغصب : مثلا زید نے عمر کا غلام غصب کیا، اور عمر کے پاس گواہ نہیں ہے تو زید جو غصب کرنے والا ہے اسی کی بات قسم کے ساتھ مانی جائے گی ۔
ترجمہ : ٢ ایسے ہی اگر مبیع کی مقدار پر اتفاق کیا اور جس چیز پر قبضہ کیا اس میں اختلاف کیا ]تو مشتری کی بات مانی جائے گی [ جیسا کہ بیان کیا ۔
تشریح : مشتری نے کہا کہ بیع تو دوباندی کی ہوئی تھی ، لیکن میں نے ایک ہی باندی پر قبضہ کیا تھا اور بائع کے پاس گواہ نہیں ہے تو اس صورت میں بھی مشتری کی بات مانی جائے گی ۔ کیونکہ یہاں بھی مشتری مدعی علیہ ہے ، اور امین ہے ۔
لغت : مقدار المبیع : جس چیز کی بیع ہوئی ہے اس کی مقدار ، یہاں دو باندی کی بیع ہوئی ہے ۔ المقبوض : جس پر قبضہ کیا ہے ، مثلا ایک باندی پر قبضہ کیا ہے ۔
ترجمہ : (٩٥) کسی نے ایک ہی عقد میں دو غلام خریدے پھر ایک پر قبضہ کیا اور دوسرے میں عیب پایا ، تو یا دونوں کو لے یا دونوں کو چھوڑ دے ۔
ترجمہ ١ : اس لئے کہ عقد دونوں پر قبضہ کرنے کے بعد پورا ہوگا اس لئے ایک غلام کے لینے میں عقد پورا ہونے سے پہلے تفریق صفقہ لازم آئے گا ۔
تشریح : یہ مسئلہ تین اصولوں پر ہے ۔
اصول :]١[ … پہلا اصول یہ ہے کہ مبیع کئی ہوں اور سب کا عقد ایک ہو تو بعض مبیع کو لے اور بعض کو چھوڑ دے اس کو تفریق صفقہ ، کہتے ہیں یہ حدیث کی وجہ سے جائز نہیں ہے ۔
]٢[… دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد عقد پورا ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے عقد پورا نہیں ہوتا ۔
]٣[… تیسرا اصول یہ ہے کہ بیع میں خیار رویت ، یا خیار شرط ہو ں تو تمام مبیع پر قبضہ کرنے کے باجود بھی عقد پورا نہیں ہوتا ۔ اور خیار عیب ہو تو تمام مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد عقد پورا ہوجاتا ہے ، اس کے بعد بعض مبیع کو رکھے اور بعض کو واپس کردے تو ایسا کر سکتا ہے ، تفریق صفقہ ، لازم نہیںآئے گا ، کیونکہ عقد پورا ہوچکا ہے ۔