(کتاب البیوع )

( کتاب البیوع )
ضروری نوٹ: بیع : باع یبیع بیعا سے مشتق ہے،بیچنا۔مال کو مال کے بدلے میں دینا ۔ماخذ اشتقاق باع ہے۔بیع ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتی ہے چاہے خریدنے والا پہلے ایجاب کرے چاہے بیچنے والا پہلے ایجاب کرے۔ بیع جائز ہونے کی دلیل یہ آیت ہے واحل اللہ البیع وحرم الربوا۔ (آیت ٢٧٥ سورة البقرة٢) اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیع جائز ہے۔
پورے کتاب البیوع میں یہ ملحوظ رکھا گیا ہے کہ بائع یا مشتری کو نقصان نہ ہو ، اسی طرح اجرت پر لینے والا یا اجرت پر دینے والے کو نقصان نہ ہو
وجہ : اس کی وجہ یہ آیتیں ہیں (١) لا تضار والد ة بولدھا ولا مولود لہ بولدہ ۔( آیت ٢٣٣، سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ والد یا والدہ کو نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔ اسی طرح بائع یا مشتری کو نقصان نہ ہو ۔(٢)فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم ۔ ( آیت١٩٤، سورة البقرة ٢) اس آیت میں ہے کہ ک کوئی کسی پر ظلم نہ کرے ۔(٣) عن ابی سعید الخدری ان رسول اللہ ۖ قال : لا ضرر و لا ضرار ، من ضار ضرہ اللہ و من شاق شق اللہ علیہ ۔( دار قطنی ،باب کتاب البیوع ، ج ثالث ، ص ٦٤، نمبر ٣٠٦٠) اس حدیث میں ہے کہ کسی کو نقصان نہ ہو ۔ اس لئے بائع یا مشتری پر ظلم نہ ہو اسی اصول پر کتاب البیوع کے تمام مسائل لکھے گئے ہیں ، چاہے بعض مسئلے کے تحت با ضابطہ حدیث نہیں ہے ۔
نوٹ: کتاب البیوع معاملات میں سے ہے۔اس لئے ان میں بہت سے مسئلے تعامل الناس پر مبنی ہیں۔اس لئے ان مسائل کے لئے حدیث یا قول صحابی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ مسائل صرف اصول پر متفرع ہیں۔البتہ اصول متیعن ہونے کے لئے حدیث یا قول صحابی پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
(کتاب البیوع لانے کی ترتیب )
مصنف علیہ الرحمة نے پہلے خالص عبادت نماز ،روزہ ، زکوة اور حج کی بحث ذکر کی ، اس کے بعد نکاح اور طلاق کو ذکر کیا جو عبادت اور معاملات کے درمیان تھا ، اور اس کے بعد خالص معاملات یعنی کتاب البیوع کو لایا ۔