فللموجب أن یرجع عنہ قبل قبولہ لخلوہ عن بطال حق الغیر ٣ ونما یمتد لی آخر المجلس لأن المجلس جامع المتفرقات فاعتبرت ساعاتہ ساعة واحدة دفعا للعسر وتحقیقا للیسر

کے بعد قبول نہ کرے تب تک اپنی بات واپس لینے کا حق ہے ، اور قبول کر لیا تو اب چاہے مجلس باقی ہو اپنی بات واپس ل لینے کا حق نہیں ہے ۔
(خیار کی چھ قسمیں ہیں )
] ١ [… خیار قبول ۔۔ایجاب کرنے کے بعد قبول کرنے کااختیار ہوتا ہے ۔ اس کو خیار قبول کہتے ہیں ۔
]٢[… خیار مجلس۔ ۔ ایجاب اور قبول ہو جانے کے بعد مجلس باقی رہنے تک بات واپس لینے کا اختیار رہتا ہے ۔ اس کو خیار مجلس کہتے ہیں ۔
]٣[… خیار شرط ۔۔ ایجاب اور قبول ہو جانے کے بعد ، دونوں میں سے کوئی تین دن کا اختیار لے ۔ اس کو خیار شرط کہتے ہیں
]٤[… خیار رؤیت۔۔ مبیع کو ابھی دیکھا نہیں ہے اور ایجاب اور قبول کر لیا تو مبیع کو دیکھنے کے بعد لینے یا نہ لینے کا اختیار رہتا ہے ۔ اس کو خیار رؤیت کہتے ہیں ۔
]٥[ … خیار عیب۔۔ ایجاب اور قبول کے بعد مبیع میں کوئی بڑا عیب ہے جس کی وجہ سے مبیع کو واپس کرنے کا حق ہوتا ہے اس کو خیار عیب کہتے ہیں ۔
]٦[ خیار اخذ۔مبیع لینے کا اختیار۔۔ مبیع میں کوئی دھوکا ہوا جس کی وجہ سے مبیع کو لینے اور اس کو چھوڑ دینے کا اختیار ہو تا ہے اس کو خیار اخذ کہتے ہیں ۔ یہ صورت کا نام ہدایہ میں نہیں ہے
ترجمہ: ٣ قبول کرنے کا اختیار مجلس کے آخیر تک ممتد ہوگا اس لئے کہ مجلس متفرقات کو جمع کرنے والی ہے اس لئے تنگی کو دور کرنے کے لئے اور آسانی کو ثابت کرنے کے لئے تمام گھڑیوں کو ایک ہی گھڑی شمار کی گئی ہے ۔
تشریح: مثلا بائع نے ایجاب کیا تو مجلس کے ختم ہونے تک مشتری کو اختیار ہوگا کہ اس کو قبول کرے یا نہ کرے ، مجلس ختم ہونے کے بعد خود بخود یہ ایجاب م منسوخ ہو جائے گا ، اس لئے مجلس ختم ہونے کے بعد مشتری قبول کرے گا تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا ، بائع کہہ سکتا ہے کہ مجلس ختم ہو گئی اس لئے میرا ایجاب ختم ہو گیا ، ہاں مجلس ختم ہونے کے بعد مشتری نے قبول کیا اور بائع نے اس قبول کو مان لیا تو اس سے اب بیع ہو جائے گی ، اور یوں سمجھا جائے گا کہ مشتری نے شروع سے ایجاب کیا اور بائع نے قبول کر لیا اس لئے اب اس ایجاب اور قبول سے بیع ہو جائے گی ۔ کیونکہ مجلس کو جامع للمتفرقات کہا گیا ہے ، یعنی تمام گھڑیوں کو ایک گھڑی کی طرح شمار کی گئی ہے ، مثلا ایک مجلس میں ایک مرتبہ سجدے کی آیت پڑھی تو ایک سجدہ واجب ہو گا ، اور اسی مجلس میں دس