(باب خیار الشرط )
(٣٦)قال خیار الشرط جائز ف البیع للبائع والمشتر ولہما الخیار ثلاثة أیام فما دونہا ١ والأصل فیہ ما رو أن حبان بن منقذ بن عمرو الأنصار رض اللہ عنہ کان یغبن ف البیاعات فقال لہ النب علیہ الصلاة والسلام ذا بایعت فقل لا خلابة ول الخیار ثلاثة أیام. ولا یجوز أکثر

( باب خیار الشرط )
ضروری نوٹ: خیار شرط کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول ہونے کے بعد مجلس میں رہتے ہوئے بائع یا مشتری دونوں یہ کہے کہ ہمیں تین دن کا اختیار دیں اس تین دن میں چاہوں تو مبیع لو اور چاہوں تو بیع رد کردوں۔اور سامنے والا اسپر ہاں کہہ دے تو اس کو خیار شرط کہتے ہیں۔ اب اس کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو بیع جائز قرار دے اور چاہے تو بیع توڑ دے۔البتہ اگر تین دن تک بیع کو نہیں توڑا تو بیع بر قرار رہے گی۔اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن ابن عمر عن النبی ۖ قال ان المتبایعین بالخیار فی بیعھما مالم یتفرقا او یکون البیع خیارا ۔(بخاری شریف، باب کم یجوز الخیار، ص ٣٣٨ ،نمبر ٢١٠٧ مسلم شریف ، باب ثبوت خیار المجلس للمتبایعین ،ص٦٦٤ ،نمبر ٣٨٥٣١٥٣١ ابو داؤد شریف ، باب فی خیار المتبایعین ، ص٥٠٠، نمبر ٣٤٥٤)اس حدیث کے لفظ او یکون البیع خیارا سے معلوم ہوا کہ بائع اور مشتری کو خیار شرط ملے گا۔
ترجمہ:(٣٦)خیار شرط جائز ہے بیع میں بائع کے لئے اور مشتری کے لئے، اور ان دونوں کو تین دنوں کا اختیار ہو گا یا اس سے کم کا اختیار ہو گا ۔
ترجمہ: ١ اصل اس میں روایت ہے کہ حضرت حبان ابن نقذ بن عمر بیع میں دھوکا کھا جاتے تھے تو حضور ۖ نے ان سے کہا کہ جب آپ بیع کیا کریں تو کہہ دیا کریں، لا خلابة ، دھوکا نہیں ہے ، اور مجھکو تین دن کا اختیار ہے ، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں ہے ، اور یہی قول امام زفر اور امام شافعی کا ہے ۔
تشریح: ایجاب اور قبول ہونے کے بعد اگر بائع اور مشتری دونوں یا ایک خیار شرط لے لے تو اس کو خیار شرط ملے گا۔ اس بارے میں حضرت حبان ابن منقذ کی حدیث ہے جس میں ہے کہ تین کا اختیار ہو گا ، اور اس سے زیادہ کا اختیار نہیں ہو گا، یہی قول امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام زفر کا ہے ۔
وجہ:(١) صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے۔ قال ھو جدی منقذ بن عمر وو کان رجلا قد اصابتہ آمة فی رأسہ فکسرت لسانہ و نازعتہ عقلہ و کان لا یدع التجارة و لا یزال یغبن فأتی رسول اللہ ۖ فذکر لہ