باللحاق۔ (۶۸۴)قال ومن وکل آخر بشیء ثم تصرف بنفسہ فیما وکل بہ بطلت الوکالۃ ۱؎ وہذا اللفظ ینتظم وجوہا مثل أن یوکلہ بإعتاق عبدہ أو بکتابتہ فأعتقہ أو کاتبہ الموکل بنفسہ أو یوکلہ بتزویج امرأۃ أو بشراء شیء ففعلہ بنفسہ أو یوکلہ بطلاق امرأتہ فطلقہا الزوج ثلاثا أو واحدۃ وانقضت عدتہا أو بالخلع فخالعہا بنفسہ لأنہ لما تصرف بنفسہ تعذر علی الوکیل

کہ مر گیا اس لئے اس کی ملکیت ختم ہوگئی ، اس لئے اس کا وکیل بھی باقی نہیں رہا ۔ اور وکیل کی وکالت کا مدار اس کے عاقل اور بالغ رہنے پر ہے ،اور دار الحرب سے واپس آنے کے بعد بھی وہ عاقل بالغ ہے اس لئے اس کی وکالت بحال رہے گی ۔
لغت : معنی قائم بہ : کا مطلب ہے کہ وکیل کے ساتھ ایسی معنی ہے جو اس کے ساتھ ابھی بھی قائم ہے ، یعنی وہ عاقل بالغ ہے ۔ لم یزل : زائل نہیں ہوا ، یعنی باقی رہا ۔
ترجمہ:(٦٨٤)کسی نے کسی کو کام کا وکیل بنایا پھر موکل نے خود ہی وہ کام کر لیا جس کا وکیل بنایا تھا تو وکالت باطل ہو جائے گی
اصول : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جس کام کا وکیل بنایا وہ کام ہو گیا تو اب وکالت کس چیز کی رہے گی۔
تشریح : جس کام کا وکیل بنایا موکل نے خود ہی وہ کام کر لیا تو وکیل کی وکالت ختم ہو جائے گی۔
وجہ : (١) جس خاص کام کا وکیل بنایا وہ کام ہی نہیں رہا تو وکیل کس چیز کا رہے گا۔ اس لئے وکالت ختم ہو جائے گی چاہے وکیل کو اس کا علم نہ ہو (٢) قول صحابی میں اس کا ثبوت ہے ۔قال قضی عمر فی امة غزا مولاھا وامر رجلا ببیعھا ثم بدا لمولاھا فاعتقھا واشھد علی ذلک وقد بیعت الجاریة فحسبوا فاذا عتقھا قبل بیعھا فقضی عمر ان یقضی بعتقھا ویرد ثمنھا ویوخذ صداقھا لما کان قد وطئھا ۔ (سنن للبیھقی ، باب ماجاء فی الوکیل ینعزل اذا عزل وان لم یعلم بہ،ج سادس، ص ١٣٦،نمبر١١٤٤٥) اس اثر میں ہے کہ مولی نے باندی کو بیچنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی آزاد کردیا ۔اور حساب سے معلوم ہوا کہ آزاد کرنا بیچنے سے پہلے تھا تو حضرت عمر نے باندی کے آزاد ہونے کا فیصلہ کیا اور گویا کہ موکل کے تصرف کرنے کی وجہ سے چاہے وکیل کو معلوم نہ ہو اس کی وکالت باطل ہو گئی۔
ترجمہ : ١ یہ متن بہت سارے مسئلے کو شامل ہے ، مثلا اپنے غلام کے آزاد کرنے کا وکیل بنایا یا اس کو مکاتب بنانے کا وکیل بنایا پھر موکل نے خود ہی آزا کردیا ، یا مکاتب بنا دیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کا وکیل بنایا ، یا کسی چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا اور موکل نے خود شادی کر لی ، یا چیز خرید لی ، یا طلاق کا وکیل بنایا پھر شوہر نے تین طلاق دے دی ، یا ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی ، یا عورت نے خلع کرنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی شوہر سے خلع لے لیا ] تو وکالت باطل ہوجائے گی ، اس لئے کہ موکل