التصرف فبطلت الوکالۃ۲؎ حتی لو تزوجہا بنفسہ وأبانہا لم یکن للوکیل أن یزوجہا منہ لأن الحاجۃ قد انقضت بخلاف ما إذا تزوجہا الوکیل وأبانہا لہ أن یزوج الموکل لبقاء الحاجۃ

نے جب خود تصرف کرلیا تو اب وکیل کے لئے تصرف کرنا متعذر ہوگیا اس لئے وکالت ختم ہوجائے گی ۔
تشریح : یہاں ٧ مثالیں دی ہیں جن میں موکل کے خود کرلینے سے وکالت باطل ہوئی ہے ۔ ]١[ موکل نے غلام آزاد کرنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی آزاد کردیا ۔
]٢[ …موکل نے غلام کو مکاتب بنانے کا وکیل بنایا پھر خود ہی مکاتب بنادیا ۔
]٣[… موکل نے عورت سے نکاح کرنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی اس سے نکاح کرلیا۔
]٤[ …موکل نے کوئی چیز خریدنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی وہ چیز خرید لی ۔
]٥[ …موکل شوہر نے طلاق دینے کا وکیل بنایا پھر خود ہی تین طلاق دے دی ۔
]٦[… موکل نے طلاق دینے کاوکیل بنایا پھر خود ایک طلاق دے دی اور عورت کی عدت بھی گزر گئی ۔
]٧[ …موکلہ نے خلع کرنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی شوہر سے خلع لے لیا ۔
تو ان ساتوں صورتوں میں موکل نے خود ہی وہ کام کر لیا اور اس کی ضرورت پوری ہوگئی اس لئے اب وکیل کی ضرورت نہیں رہی اس لئے وکالت ختم ہوجائے گی ۔
ترجمہ : ٢ یہی وجہ ہے کہ اگر موکل نے خود نکاح کر لیا پھر عورت کو طلاق دیکر بائنہ کردیا تو وکیل کے لئے جائز نہیں ہے کہ دوبارہ اس عورت سے نکاح موکل کا نکاح کرائے ، اس لئے کہ موکل کی ضرورت پوری ہوگئی ہے ، برخلاف اگر وکیل نے خود ہی اس عورت سے نکاح کرلیا پھر عورت کو طلاق دے دی تو وکیل کے لئے جائز ہے کہ موکل سے نکاح کرا دے اسلئے کہ موکل کی ضرورت ابھی باقی ہے
اصول : یہ مسئلہ اصول پر ہے کہ موکل کی ضرورت باقی ہو تو وکیل وہ کام کر سکتا ہے ۔
تشریح : موکل نے ایک عورت سے نکاح کرانے کا وکیل بنایا پھر موکل نے نکاح کر لیا ، لیکن پھر اس کو طلاق دیکر بائنہ کردیا تو وکیل کو اس سے نکاح کرانا جائز نہیں ہے ، کیونکہ جب موکل نے نکاح کیا تو نکاح کی ضرورت پوری ہوگئی اس لئے اب اس سے نکاح نہیں کراسکتا ہے ۔ اس کی وکالت بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے برخلاف خود وکیل نے اس عورت سے نکاح کر لیا ،بعد میںاس کو طلاق دیکر بائنہ کردیا تو موکل سے ابھی نکاح نہیں ہوا ہے اس لئے اس کی ضرورت باقی ہے اس لئے وکالت بھی باقی ہے اس لئے موکل سے نکاح کرا سکتا ہے ۔