۳؎ وکذا لو وکلہ ببیع عبدہ فباعہ بنفسہ فلو رد علیہ بعیب بقضاء قاض فعن أبي یوسف رحمہ اللہ أنہ لیس للوکیل أن یبیعہ مرۃ أخری لأن بیعہ بنفسہ منع لہ من التصرف فصار کالعزل۔۴؎ وقال محمد رحمہ اللہ لہ أن یبیعہ مرۃ أخری لأن الوکالۃ باقیۃ لأنہ إطلاق والعجز قد زال ۵؎ بخلاف ما إذا وکلہ بالہبۃ فوہب بنفسہ ثم رجع لم یکن للوکیل أن یہب ثانیا لأنہ مختار في

ترجمہ: ٣ ایسے ہی اپنے غلام کے بیچنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی بیچ دیا پھر موکل پر قاضی کے فیصلے کی وجہ سے غلام واپس ہوگیا تو حضرت امام ابو یوسف کی رائے ہے کہ وکیل کے لئے اب دوبارہ بیچنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ خود بیچ دیا تو وکیل کو تصرف سے روک دیا تو ایسا ہوگیا کہ وکیل کو معزول کردیا ۔
تشریح : موکل نے غلام بیچنے کا وکیل بنایا ، پھر خود ہی بیچ دیا ، لیکن عیب کی وجہ سے قاضی کے فیصلے کے بعد غلام واپس کردیا گیا تو امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ وکیل کے لئے اب دوبارہ اس غلام کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ جب موکل نے خود ہی بیچ دیا تو وکیل کو تصرف سے روک دیا ، اور گویاکہ اس کو معزول کردیا اس لئے اب غلام بیچنا اس کے لئے جائز نہیں ہوگا ۔
ترجمہ : ٤ امام محمد نے فرمایا کہ وکیل کے لئے دوبارہ بیچنا جائز ہے اس لئے کہ وکالت ابھی باقی ہے اس لئے نہ روکنے کی وجہ سے اس کا ہاتھ کھلا ہوا ہے ، اور غلام واپس لوٹنے کی وجہ سے عاجزی ختم ہوگئی ۔
تشریح : امام محمد فرماتے ہیں کہ موکل نے اجازت دی ہے جسکو ابھی ختم نہیں کیا ہے اس لئے اس کی وکالت باقی ہے ، البتہ خود ہی بیچا تھا اس لئے عاجزی تھی ، جب غلام قاضی کے فیصلے سے واپس آگیا تو موکل اس کے لینے میں مجبور تھا ، اپنی خوشی سے واپس نہیں لیا ہے، اس لئے غالب گمان یہ ہے کہ موکل کو ابھی بھی غلام بیچنے کی ضرورت ہے ، اس ضرورت کے ماتحت وکیل کو غلام بیچنے کا اختیار ہوگا
لغت : اطلاق : ہاتھ کھلا ہوا ہے ، یہاں مراد ہے کہ غلام بیچنے کی ابھی بھی اجازت ہے۔
ترجمہ : ٥ بخلاف اگر ہبہ کرنے کا وکیل بنایا پھر خود ہی ہبہ کردیا پھر موکل نے ہبہ کی ہوئی چیز واپس بھی لے لی تو وکیل کو اب دوبارہ ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ، اسلئے کہ اختیار سے ہبہ واپس لیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے
تشریح : اگر موکل نے ہبہ کا وکیل بنایا پھر خود ہی ہبہ کردیا ، بعد میںخود ہی ہبہ کو واپس لے لیا ، تو ہبہ کی چیز کو واپس لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اب موکل کو ہبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وکیل اب دوبارہ ہبہ نہیں کرسکتا ۔