الرجوع فکان ذلک دلیل عدم الحاجۃ۔۶؎ أما الرد بقضاء بغیر اختیارہ فلم یکن دلیل زوال الحاجۃ فإذا عاد إلیہ قدیم ملکہ کان لہ أن یبیعہ واللہ اعلم

ترجمہ : ٦ اور قاضی کے ذریعہ سے غلام واپس کرنا تو یہ موکل کے اختیار میں نہیں ہے ، اس لئے یہ ضرورت کے ختم ہونے کی دلیل نہیں ہے ، اس لئے جب غلام میں موکل کی پرانی ملکیت واپس آگئی تو وکیل کے لئے اس کا بیچنا جائز ہوگا ۔
تشریح : یہ امام محمد کی دلیل ہے ۔ کہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے موکل نے غلام واپس لیا ہے اس لئے یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ موکل اس غلام کو بیچنا نہیں چاہتا ، بلکہ غالب گمان یہی ہے کہ اس غلام کو ابھی بھی موکل بیچنا چاہتا ہے ، اس لئے جب غلام میں موکل کی پرانی ملکیت واپس آگئی ،اور وکیل کو منع بھی نہیں کیا ہے تو اس ضرورت کی بنا پر غلام کو دوبارہ بیچنے کی اجازت ہو گی ۔
و اللہ اعلم بالصواب
تمت بالخیر
٢٨ ٦ ٢٠٠٨ ء کو کتاب البیوع لکھنا شروع کیا تھا لیکن طبیعت خراب ہوگئی اس لئے اس کام کو موقوف کرنا پڑا، پھر درمیان میں نور الایضاح کی شرح ثمرة النجاح دو جلدوں میں لکھی، جو شائع ہوگئی ۔ اس کے بعد پھر ہدایہ آخرین شروع کی لیکن پھر طبیعت خراب ہوگئی ، اسی بیماری کی حالت میں یہ دو جلدیں تیار کی ہیں ۔ اور ارادہ یہ ہے کہ صحت نے ساتھ دیا تو اب ہدایہ کی چوتھی جلد کتاب الشفعہ سے شروع کروں گاتاکہ اسباق میں جتنے ابواب پڑھائے جاتے ہیں کم سے کم وہ پورے ہوجائیں اور طلبہ کے لئے آسانی ہوجائے ، اس کے بعد باقی جلدیں پوری کی جائے گی ، ان شاء اللہ ۔۔اللہ تعالی اس کو قبول فرمائے ، اور اجر آخرت سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین!
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین
والصلوة والسلام علی رسولہ الکریم
وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
احقرثمیر الدین قاسمی غفر لہ ولوالدیہ
سابق استاد حدیث جامعہ اسلامیہ مانچسٹر
و چیئر مین مون ریسرچ سینٹر ، یو،کے
١٣ ١ ٢٠١٢ ء