تمہید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّيْ عَلیٰ رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ، وَاٰلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَتبَاعِهِ الْحُمَاۃِ لِلدِّینِ الْقَوِیْمِ. أمابعد!
اللہ کے ایک برگُزیدہ بندے اورمیرے مُربِّی ومحسن کاارشاد ۱۳۵۳؁ھ میں ہواکہ: صحابۂ کرام -رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ أَجْمَعِیْنَ- کے چندقصے، بالخصوص کم سِنصحابہ ث اور عورتوں کی دِین داری کی کچھ حالت اردو میں لکھی جائے؛ تاکہ جو لوگ قصوں کے شوقین ہیں، وہ واہی تباہی،جھوٹی حکایات کے بجائے اگراِن کودیکھیں، تواُن کے لیے دینی ترقّی کا سبب ہو، اور گھر کی عورتیں اگر راتوں میں بچوں کوجھوٹی کہانیوں کے بجائے اِن کو سنائیں، تو بچوں کے دل میںصحابہث کی محبت اور عظمت کے ساتھ دینی امور کی طرف رغبت پیداہو۔ میرے لیے اِس ارشاد کی تعمیل بہت ہی ضروری تھی، کہ احسانات میںڈوبے ہوئے ہونے کے علاوہ اللہ والوں کی خوشنودی دوجہاں میں فلاح کا سبب ہوتی ہے؛ مگراِس کے باوجود اپنی کم مایگیسے یہ امید نہ ہوئی کہ مَیں اِس خدمت کو مرضی کے موافق اداکرسکتا ہوں؛ اِس لیے چاربرس تک بار بار اِس ارشاد کو سنتا رہا اور اپنی نااہلیتسے شرمندہ ہوتارہا،کہ صفر ۱۳۵۷؁ھ میں ایک مَرَض کی وجہ سے چندروز کے لیے دماغی کام سے روک دیاگیا، تومجھے خَیال ہوا کہ اِن خالی اَیام کو اِس بابرکت مشغلے میں گزار دوں، کہ اگریہ اَوراق پسندِخاطر نہ ہوئے تب بھی میرے یہ خالی اوقات توبہترین اوربابرکت مشغلے میں گزر ہی جائیںگے۔
اِس میںشک نہیں کہ اللہ والوں کے قصے،اُن کے حالات یقیناً اِس قابل ہیںکہ


برگُزیدہ: محبوب۔ کم سِن: کم عمر۔ فلاح: کامیابی۔ کم مایگی: بے سامانی۔ نااہلیت: نالائقی۔ اَیام: دن۔ پسندِخاطر: مرضی کے مطابق۔
اُن کی تحقیق اورتفتیش کی جائے، اوراُن سے سبق حاصل کیاجائے؛ بالخصوص صحابۂ کرام رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ أَجْمَعِیْنَ کی جماعت-جس کواللہ جلَّ شَانُہٗ نے اپنے لاڈلے نبی اور پیارے رسول ﷺ کی مُصاحَبت کے لیے چُنا- اِس کی مستحق ہے، کہ اُس کااِتّباع کیا جائے۔ اِس کے علاوہ اللہ والوں کے ذکرسے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
صوفیاء کے سردارحضرت جنید بغدادیؒ کاارشادہے کہ: ’’حکایتیں اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، جس سے مریدین کے دلوںکوتقوِیتحاصل ہوتی ہے‘‘، کسی نے دریافت کیا کہ: اِس کی کوئی دلیل بھی ہے؟ فرمایا: ہاں!اللہ جَلَّ شَانُہٗ