ہے میری خواہش ہے کہ اُسی طرح فضائلِ درود بھی لکھ دے۔ حضرت شاہ صاحب نَوَّرَاللہُ مَرْقَدَہٗکے وصال کے بعد مولانا عبدالعزیز صاحب باربار اِس وصیت کی یاد دَہانی اور تعمیل پر اِصرار کرتے رہے، اور یہ ناکارہ بھی اپنی نااہلیت کے باوجود دل سے خواہش کرتارہا کہ یہ سعادت مُیسَّر ہوجائے۔ شاہ صاحب نَوَّرَاللہُ مَرْقَدَہٗ کے عِلاوہ اَور بھی بہت سے حضرات کا اصرار ہوتارہا؛ مگر اِس ناکارہ پر سید الکونین، فخر الرُّسُل صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وََاٰلِہٖ وَسَلَّمْ کی جلالتِ شان کا کچھ ایسا رُعب طاری رہا کہ، جب بھی اِس کا ارادہ کیا یہ خوف طاری ہوا کہ مَبادا کوئی چیز شانِ عالی کے خلاف نہ لکھی جائے۔ اِسی لَیت ولعل میںگذشتہ سال عزیزی مولانا محمد یوسف صاحبؒ کے اصرار پر تیسری مرتبہ حِجاز کی حاضری مُیسَّر ہوئی، اور اللہ کے فضل سے چوتھے حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ حج سے فراغ پر جب مدینہ پاک حاضری ہوئی تو وہاں پہنچ کر بار بار دل میں یہ سوال پید اہوتاتھا کہ: فضائلِ درود نہ لکھنے کا کیا جواب ہے؟ ہرچند کہ مَیں اپنے اَعذار سوچتا تھا؛ لیکن باربار اِس قَلبی سوال پر یہ ناکارہ پُختہ ارادہ کرکے آیاتھا کہ سفر سے واپسی پر إنْ شَاءَ اللہ اِس مبارک رسالے کی تکمیل کی کوشش کروںگا؛ مگر’’خُوئے بد را بہانۂ بِسیار‘‘ ،یہاں واپسی پر بھی اِمروز وفَردا ہوتارہا، اِس ماہِ مبارک میں اِس داعیہ نے پھر عود کیا، تا آج ۲۵؍ رمضان المبارک آخری جمعہ کو جمعہ کی نماز کے بعد اللہ کے نام سے ابتدا تو کرہی دی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے تکمیل کی توفیق عطا فرمائے، اور اِس رسالے میں اور اِس سے پہلے جتنے رسائل لکھے گئے ہیں یا عربی کی کتابیں لکھی گئی ہیں اُن میں جو لغزشیں ہوئی ہوں، محض اپنے لطف وکرم سے اُن کو مُعاف فرمائیں۔
اِس رسالے کو چند فُصول اور ایک خاتمے پر لکھنے کا خَیال ہے:
پہلی فصل میں فضائلِ درود شریف۔
دوسری فصل میں خاص خاص درود شریف کے خاص خاص فضائل۔
تیسری فصل میں درود شریف نہ پڑھنے کی وعیدیں۔
چوتھی فصل فوائد متفرِّقہ میں۔
پانچویں فصل حکایات میں۔
حق تَعَالیٰ شَانُہٗ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق عطافرمائے۔ اِس رسالے کے دیکھنے سے ہرشخص خودہی محسوس کرلے گا کہ، درود شریف کتنی بڑی دولت ہے؟ اور اِس میںکوتاہی کرنے والے کتنی بڑی سعادت سے محروم ہیں؟۔