والخنزیر ]٩٧٠[(١٩) ولا یجوز بیع دود القز الا ان یکون مع القز ولا النحل الا مع

وجہ (١) شراب اور سور نجس العین ہیں اس لئے اس کی بیع جائز نہیں ہے۔نجس العین ہونے کی دلیل یہ آیت ہے۔انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان (الف) (آیت ٩٠ سورة المائدة ٥) اس آیت میں خمر کو رجس اور ناپاک کہا گیا ہے (٢) حدیث میں شراب بیچنے کی ممانعت ہے۔عن عائشة مما نزلت آیات سورة البقرة٢ آیت ٢١٩ عن آخرھا خرج النبی ۖ فقال حرمت التجارة فی الخمر (ب) (بخاری شریف، باب تحریم التجارة فی الخمر ص ٢٩٧ نمبر ٢٢٢٦مسلم شریف ، باب تحریم الخمر ص ٢٢ نمبر ١٥٨٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شراب کی تجارت حرام ہے (٣) ابوداؤد شریف میں یہ بھی ہے کہ جس چیز کا کھانا حرام ہے تو اس کا ثمن بھی حرام ہے۔ عن ابن عباس قال رایت رسول اللہ ۖ جالسا عند الرکن قال فرفع بصرہ الی السماء فضحک فقال لعن اللہ الیھود ثلاثا ان اللہ تعالی حرم علیھم الشحوم فباعوھا واکلوا اثمانھا وان اللہ تعالی اذا حرم علی قوم اکل شیء حرم علیھم ثمنہ (ج) (ابو داأد شریف ، باب فی ثمن الخمر والمیتة ص ١٣٦ نمبر ٣٤٨٨) اس حدیث میں ہے کہ کسی چیز کا کھانا حرام ہو تو اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ اس لئے شراب کی قیمت حرام ہوگی اور اس کا بیچنا حرام ہوگا۔اور خنزیر کے حرام ہونے کی دلیل یہ آیت ہے۔الا ان یکون میتة او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ (د)(آیت ١٤٥ سورة الانعام ٦) اس آیت میں لحم خنزیر کو رجس اور ناپاک کہا گیا ہے اس لئے اس کا بیچنا حرام ہے۔حدیث میں ہے۔عن جابر بن عبد اللہ انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول عام الفتح وھو بمکة ان اللہ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتة والخنزیر والاصنام (ہ)(مسلم شریف ، باب تحریم بیع الخمر والمیتة والخنزیر والاصنام ص ٢٣ نمبر ١٥٨١) اس حدیث میں شراب، مردار اور سور اور بتوں کے بیچنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اس لئے سور کی بیع بھی جائز نہیں ہے (٣) شراب اور سور مسلمانوں کے لئے مال ہی نہیں ہیں اس لئے اس کو بیچیںگے کیسے ؟
]٩٧٠[(١٩)اور نہیں جائز ہے ریشم کے کیڑے کی بیع مگر ریشم کے ساتھ اور نہ شہد کی مکھی کی بیع مگر چھتوں کے ساتھ۔
تشریح ریشم کی بیع جائز ہے مگر تنہا ریشم کے کیڑوں کی بیع جائز نہیں۔ہاں ریشم کے ساتھ کیڑے ہوں تو ریشم کے ساتھ کیڑوں کی بیع جائز ہو جائے گی۔
وجہ ریشم کا کیڑا مال نہیں ہے اس لئے تنہا اس کی بیع جائز نہیں ہے۔البتہ ریشم کے تابع کرکے اس کی بیع جائز ہوگی۔اسی طرح شہد کی مکھی مال نہیں ہے اس لئے تنہا اس کی بیع جائز نہیں ہے۔البتہ شہد کے چھتے کے ساتھ تابع ہو کر اس کی بیع جائز ہوگی ۔

حاشیہ : (الف) شراب ،جوا،بت پرستی اور تیر سے فال نکالنا ناپاک ہیں شیطانی کام ہیں(ب) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سورہ بقرہ کی آیت نازل ہوئی تو حضورۖ باہر تشریف لائے اور فرمایا شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے(ج) میں نے حضور کو رکن کعبہ کے پاس بہٹھے ہوئے دیکھا فرمایا آپۖ نے اپنی نگاہ مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور مسکرائے پھر تین مرتبہ فرمایا،اللہ یہود پر لعنت کرے،ان پر چربی حرام کی تھی پھر بھی اس کو بیچا اور اس کی قیمت کھائی حالانکہ اللہ تعالی کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتے ہیں تو اس کی قیمت بھی حرام کرتے ہیں (د) مگر یہ کہ مردہ ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو ۔پس خنزیر کا گوشت ناپا ک ہے یا فسق ہے کہ اللہ کے علاوہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (ہ)حضور کو فتح مکہ کے دن فرماتے ہوئے سنا دراں حالیکہ آپۖ مکہ میں تھے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے شراب ، مردار، خنزیر اور بتوں کو بیچنا حرام کر دیا ہے۔