مجازفة وباناء بعینہ لا یعرف مقدارہ او بوزن حجر بعینہ لا یعرف مقدارہ]٨٢٩[ (١٠) ومن باع صبرة طعام کل قفیز بدرھم جاز البیع فی قفیز واحد عند ابی حنیفة رحمہ اللہ

گی۔مقدار کی جہالت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
وجہ کیونکہ مبیع سامنے موجود ہے اس لئے اس کی مقدار نہ بھی معلوم ہو صرف اٹکل سے بیچے تب بھی جائز ہے (٤) اسی طرح ایک پتھر ہے جس کی مقدار معلوم نہیں ہے کہ کتنے کیلو وزن کا یہ پتھر ہے پھر بھی دونوں کے درمیان یہ طے ہو جائے کہ ہر پتھر وزن کے بدلے پانچ پونڈ دوںگا تو بیع جائز ہو جائے گی۔
وجہ (١) جب اٹکل سے بیچنا جائز ہے تو اس طرح بھی بیچنا جائز ہوگا(٢) اٹکل سے بیچنے کی حدیث یہ ہے ان ابن عمر قال لقد رایت الناس فی عھد رسول اللہ ۖ یبتاعون جزافا یعنی الطعام یضربون ان یبیعوا فی مکانھم حتی یؤوہ الی رحالھم (الف) (بخاری شریف ، باب من رای اذا اشتری طعاما جزافا ان لایبیعہ حتی یؤویہ الی رحلہ ص ٢٨٦ نمبر ٢١٣٧ مسلم شریف ، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض ج ثانی ص ٥ نمبر ١٥٢٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اٹکل سے کھانا اور غلہ بیچنا جائز ہے اور اس وقت اٹکل سے نہیں بیچتے تھے جب تک کجاوے تک غلہ نہ آجائے اس سے معلوم ہوا کہ غلہ سامنے موجود ہو تب ہی اٹکل سے بیچ سکتا ہے۔اور سامنے موجود نہ ہو تو اس کی مقدار اور صفت کا متعین ہونا ضروری ہے ۔ جیسے بخاری شریف اور مسلم شریف کی حدیث گزری من اسلف فی شیء ففی کیل معلوم الی اجل معلوم (بخاری شریف نمبر ٢٢٤٠ مسلم شریف نمبر ١٦٠٤) نوٹ حدیث میں طعام کے لفظ سے یہ بھی پتہ چلا کہ درہم اور دنانیر کو بغیر وزن کئے ہوئے بیچے تو اس میں تفصیل ہے۔
لغت مکایلة : کیل کرکے۔ مجازفة : اٹکل سے۔
]٨٢٩[(١٠)کسی نے کھانے کا ڈھیر بیچا ہر قفیز ایک درہم کے بدلے میں تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک قفیز کی بیع ہوگی اور باقی میں باطل ہوگی مگر یہ کہ تمام قفیز متعین کردے۔اور صاحبین نے فرمایا دونوں سورتوں میں بیع جائز ہے ۔
تشریح غلے کا ڈھیر ہے لیکن پورے غلے کی قیمت بیک وقت نہیں لگائی اور نہ یہ معلوم ہے کہ ڈھیر میں کتنے قفیز غلہ ہے اور اس کی مجموعی قیمت کتنے پونڈ ہیں۔یہ تو ناپنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کتے قفیز ہیں اور اس کی مجموعی قیمت کتنی ہوئی۔ایسی صورت میں بائع کہتا ہے کہ ہر قفیز ایک درہم کا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک صرف ایک قفیز کی بیع فی الحال ہوگی۔
وجہ ابھی پوے ڈھیر کی نہ مقدار معلوم ہے اور نہ اس کی مجموعی قیمت معلوم ہے اس لئے اقل درجے کی طرف پھیرا جائے گا اور ایک قفیز کی بیع ہوگی اسی پر جھگڑا ہوجائے تو قانونی حیثیت سے ایک قفیز ہی لینا ہوگا۔
نوٹ پورا ڈھیر ناپ دے اور اس کی مجموعی قیمت گنا دے اور اس پر بعد میں بائع مشتری راضی ہو جائے تو اب پورے ڈھیر کی بیع ہوگی۔امامگی۔مقدار کی جہالت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔
وجہ کیونکہ مبیع سامنے موجود ہے اس لئے اس کی مقدار نہ بھی معلوم ہو صرف اٹکل سے بیچے تب بھی جائز ہے (٤) اسی طرح ایک پتھر ہے جس کی مقدار معلوم نہیں ہے کہ کتنے کیلو وزن کا یہ پتھر ہے پھر بھی دونوں کے درمیان یہ طے ہو جائے کہ ہر پتھر وزن کے بدلے پانچ پونڈ دوںگا تو بیع جائز ہو جائے گی۔
وجہ (١) جب اٹکل سے بیچنا جائز ہے تو اس طرح بھی بیچنا جائز ہوگا(٢) اٹکل سے بیچنے کی حدیث یہ ہے ان ابن عمر قال لقد رایت الناس فی عھد رسول اللہ ۖ یبتاعون جزافا یعنی الطعام یضربون ان یبیعوا فی مکانھم حتی یؤوہ الی رحالھم (الف) (بخاری شریف ، باب من رای اذا اشتری طعاما جزافا ان لایبیعہ حتی یؤویہ الی رحلہ ص ٢٨٦ نمبر ٢١٣٧ مسلم شریف ، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض ج ثانی ص ٥ نمبر ١٥٢٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اٹکل سے کھانا اور غلہ بیچنا جائز ہے اور اس وقت اٹکل سے نہیں بیچتے تھے جب تک کجاوے تک غلہ نہ آجائے اس سے معلوم ہوا کہ غلہ سامنے موجود ہو تب ہی اٹکل سے بیچ سکتا ہے۔اور سامنے موجود نہ ہو تو اس کی مقدار اور صفت کا متعین ہونا ضروری ہے ۔ جیسے بخاری شریف اور مسلم شریف کی حدیث گزری من اسلف فی شیء ففی کیل معلوم الی اجل معلوم (بخاری شریف نمبر ٢٢٤٠ مسلم شریف نمبر ١٦٠٤) نوٹ حدیث میں طعام کے لفظ سے یہ بھی پتہ چلا کہ درہم اور دنانیر کو بغیر وزن کئے ہوئے بیچے تو اس میں تفصیل ہے۔
لغت مکایلة : کیل کرکے۔ مجازفة : اٹکل سے۔
]٨٢٩[(١٠)کسی نے کھانے کا ڈھیر بیچا ہر قفیز ایک درہم کے بدلے میں تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک قفیز کی بیع ہوگی اور باقی میں باطل ہوگی مگر یہ کہ تمام قفیز متعین کردے۔اور صاحبین نے فرمایا دونوں سورتوں میں بیع جائز ہے ۔
تشریح غلے کا ڈھیر ہے لیکن پورے غلے کی قیمت بیک وقت نہیں لگائی اور نہ یہ معلوم ہے کہ ڈھیر میں کتنے قفیز غلہ ہے اور اس کی مجموعی قیمت کتنے پونڈ ہیں۔یہ تو ناپنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کتے قفیز ہیں اور اس کی مجموعی قیمت کتنی ہوئی۔ایسی صورت میں بائع کہتا ہے کہ ہر قفیز ایک درہم کا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک صرف ایک قفیز کی بیع فی الحال ہوگی۔
وجہ ابھی پوے ڈھیر کی نہ مقدار معلوم ہے اور نہ اس کی مجموعی قیمت معلوم ہے اس لئے اقل درجے کی طرف پھیرا جائے گا اور ایک قفیز کی بیع ہوگی اسی پر جھگڑا ہوجائے تو قانونی حیثیت سے ایک قفیز ہی لینا ہوگا۔
نوٹ پورا ڈھیر ناپ دے اور اس کی مجموعی قیمت گنا دے اور اس پر بعد میں بائع مشتری راضی ہو جائے تو اب پورے ڈھیر کی بیع ہوگی۔امام

حاشیہ : (الف) میں نے لوگوں کو حضور کے زمانے میں اٹکل سے غلہ خریدتے اور بیچتے دیکھا اور کھجور اس کی جگہ میں بیچنے سے احتراز کرتے تھے یہاں تک کہ وہ کجاوے تک نہ پہنچ جائے۔