کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمار ا سوال اننچاس کروڑ کے بارے میں ہے، مفتی صاحب! تبلیغی ساتھی دعوت وتبلیغ میں نکلنے پر اننچاس کروڑ کا ثواب بتاتے ہیں۔ کیا یہ ثابت ہے؟ سنا ہے کہ یہ لو گ دو حدیثوں کو ضرب دے کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ اس بارے میں دو سوالوں کا جواب مطلوب ہے۔
۱)۔ ایک یہ کہ اس طرح حدیثوں کو ضرب دینا کیسا ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟
۲)۔ سنا ہے کہ ان دو حدیثوں میں اصل جہاد کی فضیلت بیان کی گئی ہے تو کیا جہاد کی فضیلت میں وارد حدیث کو تبلیغ پر چسپاں کرنا درست ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
۱)۔ مذکورہ فضیلت دو حدیثوں کو ملانے سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک حدیث میں ہے کہ ”فی سبیل اللہ“ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات لاکھ کے برابر ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک کا بدلہ سات سو گنا المضاعف ہوتا ہے۔ سات لاکھ کو جب سات سو سے ضرب دیا جائے تو اننچاس کروڑ بنتا ہے۔ اگرچہ اس طرح حدیث کو ضرب دے کر بیان کرنے میں کوئی حرج تو نہیں۔ کیونکہ دونوں باتیںحدیث سے ثابت ہیں لیکن احتیاط اس میں ہے کہ حقیقت ضرب کو واضح کردیا جائے۔ تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے کیونکہ معاملہ بیانِ حدیث کا ہے،انتہائی نازک موقعہ ہے۔
۲)۔ جہاد جہد سے مشتق ہے۔ یعنی کوشش کرنا، اس کا اولین مصداق قتال بالسیف ہے۔ اس کے علاءِ کلمۃ اللہ کے لیے ہر کوشش پر جہاد کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جہاں فضائل جہاد کو تبلیغ کیلئے بیان کیا جاتا ہے اس میں عموماً ”فی سبیل اللہ“ کے لفظ سے استدلال کیا جاتا ہے ۔ لفظِ جہاد اور فی سبیل اللہ کا اطلاق دوسرے دینی کاموں پر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ علامہ شامی بدائع کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں کہ (”وفی سبیل اللہ“یدخل فیہ جمیع القرب وکل من سعی فی طاعۃ اللہ)عبارتِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کوشش جو اطاعتِ الٰہی سے متعلق ہو اس پر فی سبیل اللہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ نیز حافظ ابن حجر نے تعلیم و تعلم وغیرہ کو جہاد قرار دیا ہے چونکہ تبلیغِ دین کا کام اِسی زمرے میں آتا ہے(اس لئے تبلیغ بھی جہاد کا ہی ایک شعبہ ہوا) لہٰذا جن آیات و احادیث میں جہاد کے فضائل وارد ہوئے ہیں تو ان کو تبلیغ کےفضائل کے مواقع پر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ وہ آیات واحادیث جو قتال بالسیف کے ساتھ خاص ہیں ان کو کسی دوسرے معنی کی طرف پھیرنا درست نہیں۔
لمافی سنن ابی داؤد (۳۳۸/۲): عن سھل بن معاذ عن ابیہ قال: قال رسول اللہ ﷺان الصلوۃ والصیام والذکر تضاعف علی النفقۃ فی سبیل اللہ عزوجل بسبعمائۃ ضعف۔
وفی سنن ابن ماجۃ: عن علی بن ابی طالب …… کلھم یحدث عن رسول اللہ ﷺانہ قال: من ارسل بنفقتہ فی سبیل اللہ، واقام فی بیتہ فلہ لکل درھم سبع مائۃ درھم، ومن غزا بنفسہ فی سبیل اللہ وانفق فی وجہ ذلک فلہ لکل درھم سبع مائۃ الف درھم ثم تلا ھذہ الآیۃ ”واللہ یضاعف لمن یشاء“
وفی فتح الباری (۶/۲): ”الجہاد بکسر المیم“ اصلہ لغۃً المشقۃ۔۔۔وشرعاً بذل الجھد فی قتال الکفار، ویطلق ایضاً علی مجاھدۃ النفس و الشیطان والفساق، واما مجاھدۃ النفس فعلی تعلم امور الدین ثم علی العمل بھا، ثم علی تعلیمھا“