کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نکاح کے وقت خطبہ نہیں پڑھتے اور بعض ایجاب وقبول سے پہلے پڑھتے ہیں اور بعض بعد میں تو ان میں سے کون صحیح ہے نکاح پڑھانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
نکاح میںخطبہ پڑھنا مستحب ہے اور صحیح یہ ہے کہ خطبہ کو ایجاب اور قبول سے پہلے پڑھا جائے۔ مسنون طریقہ نکاح کا یہی ہے کہ پہلے خطبہ پڑھا جائے اور پھر بعدمیں ایجاب و قبول کیا جائے۔
لمافی اعلاء السنن (۸۲/۱۱): عن رجل من بنی سلیم قال: خطبت الی النبی صلی الله علیہ وسلم امامۃ بنت عبدالمطلب، فانکحنی من غیران یتشھد فدل ذلک علی جواز النکاح بغیر خطبۃ مع عدم الکراھۃ فالخطبۃ لہ مستحبۃ۔
وفی الدرالمختار (۸/۳): ویندب اعلانہ وتقدیم خطبۃ وکونہ فی مسجد یوم جمعۃ بعاقد رشید وشھود عدول۔
وفی الفقہ الاسلامی (۶۶۱۶/۹):يستحب للزواج ما يأتي :أن يخطب الزوج قبل العقد عند التماس التزويج خُطبة مبدوءة بالحمد لله والشهادتين، والصلاة على رسول الله ﷺ ، مشتملة على آية فيها أمر بالتقوى وذكر المقصود، عملاً بخطبة ابن مسعود۔۔۔ فإن عقد الزواج من غير خطبة جاز،فالخطبة مستحبة غير واجبة۔
(۱۲۱) کافر کا خطبہ نکاح پڑھانے کا حکم
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کافر مسلمان کا خطبہ نکاح پڑھا سکتا ہے، ہم نے سنا ہے آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ابو طالب نے پڑھایا تھا ، ابو طالب تو کافر تھے انہوں نے ایک پیغمبر کا نکاح کیسے پڑھایا اس سے تو جواز معلوم ہوتا ہے، مسئلہ کیا ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
دو گواہوں کی موجودگی میں محض ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ خطبہ کی حیثیت نکاح میں استحباب کی ہے اسی لئے بغیر خطبہ کے بھی نکاح درست ہو جاتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے سہل بن سعد کا نکاح بغیر خطبہ کے پڑھایا لہٰذا اگر کافر نے خطبہ پڑھا تب بھی نکاح درست ہوگا اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ نکاح خواں کی حیثیت صرف ایک معبر اور سفیر کی ہوتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ نکاح دیندار اور نیک شخص سےپڑھوایا جائے۔
لمافی عمدۃ القاری (۱۳۴/۲۰) باب الخطبۃ:وقال الترمذي وقد قال بعض أهل العلم إن النكاح جائز بغير خطبة وهو قول سفيان الثورى وغيره من أهل العلم قلت وأوجبها أهل الظاهر فرضا واحتجوا بأنه خطب عند تزوج فاطمة رضي الله تعالى عنها وأفعاله على الوجوب واستدل الفقهاء على عدم وجوبها بقوله في حديث سهل بن سعد قد زوجتها بما معك من القرآن
وفی الدرالمختار (۸/۳):( وينعقد ) ملتبسا ( بإيجاب ) من أحدهما ( وقبول ) من الآخر۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ (۶۶۱۸/۹):فإن عقد الزواج من غير خطبة جاز،فالخطبة مستحبة غير واجبة۔
(۱۲۲) خطبہ نکاح کا سننا واجب ہے یا مسنون؟
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے میں کہ خطبہ جمعہ کا سننا تو واجب ہے لیکن خطبہ نکاح کے سننے کا کیا حکم ہے؟ عموماً خطبہ نکاح کو توجہ سے نہیں سنا جاتا، لوگ موبائل اور دیگر اُمور میں مصروف نظر آتے ہیں۔ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب بعون الملک الوھاب
خطبہ نکاح کا سننا بھی واجب ہے اور خطبہ نکاح کے دوران دیگر مشاغل میں مصروف ہونا جائز نہیں۔
لمافی الدرالمختار (۱۵۹/۲): وكذا يجب الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح وخطبة عيد وختم على المعتمد ۔