"قیل لأصبغ إن قوما یذکرون کراھتہ فقال من کرھہ إنما کرھہ بالطب لا بالعلم ولا بأس بہ ولیس بمکروہ وقد روی عن مالک أنہ قال لا بأس أن ینظر إلی الفرج فی حال الجماع۔ وزاد فی روایۃ ویلحسہ بلسانہ وھو مبالغۃ فی الإباحۃ ولیس کذلک علی ظاھرہ۔"
”اصبغ سے کہا گیا کہ ایک جماعت (بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے کو) مکروہ کہتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جو بھی اسے مکروہ کہتا ہے وہ طبی اعتبار سے ہے وگرنہ شرعی کوئی دلیل کراہت کی نہیں اور شرعاً اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ کراہت (بلکہ یہ صرف طبّا ناپسندیدگی ہوگی)۔ امام مالک سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمبستری کے وقت بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ زبان سے شرمگاہ کو چاٹے۔ امام مالک کا یہ قول اباحت میں مبالغہ ہے جو کہ اپنے ظاہر پر نہیں۔“ (مواہب الجلیل علی مختصر خلیل ۵/۲۳)
اسی طرح فقہ شافعی کی کتاب اعانۃ الطالبین میں ذکر ہے:
"(تتمۃ: یجوز للزوج کل تمتع منھا بما سوی حلقۃ دبرھا، ولو بمص بظرھا أو استمناء بیدھا"
تتمہ: شوہر کیلئے بیوی سے ہر قسم کا تمتع جائز ہے سوائے اس کی دبر (موضع اجابت) سے۔اگرچہ یہ تمتع عورت کی شرمگاہ کے چوسنے یا اس کے ہاتھ سے مشت زنی کرانےکی صورت میں ہو۔“ (اعانۃ الطالبین ۳/۵۲۹)
فقہ حنبلی کی کتاب ”کشاف القناع عن متن الاقناع“ میں تحریر ہے:
"وقال القاضی یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ"
’’قاضیؒ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرمگاہ کا بوسہ لینا جماع سے قبل جائز ہے اور جماع کے بعد مکروہ ہے۔ ‘‘(کشاف القناع ۵/۱۶)
فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں نقل ہے:
"وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة "
’’امام ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ  سے دریافت فرمایا کہ ایک شخص اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چھوتا ہے اور بیوی اس کی شرمگاہ کو تاکہ مرد میں حرکت بڑھ جائے تو کیا آپ اس میں کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ امام صاحب نے جواب دیا: نہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔“ ( رد المحتار ۶/۳۶۷)
نیز فقہ حنفی کی ایک اور فتاویٰ کی مشہور کتاب ہندیہ میں ہے:
" إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة"
”نوازل میں ہے جب مرد اپنا آلہ تناسل عورت کے منہ میں داخل کردے تو کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ نہیں۔ ذخیرہ میں یہی ذکر ہے۔“ (الھندیۃ ۵/۳۷۲)
اسی طرح محیط برہانی میں یہ جزئیہ ان الفاظ میں ذکر ہے: