(۴۳۰) بارات کا شرعی حکم
سؤال
میرے ایک دوست ہیں جو بہت ہی نیک اور پابند صوم و صلوۃ ہیں ان کی خواہش رہتی ہے کہ ہر کام سنت کے مطابق کرنا چاہیئے عنقریب ان کی شادی ہے وہ مصر ہیں کہ شادی میں بارات وغیرہ نہیں جائے گی لیکن گھر والے کہتے ہیں کہ بارات ہال میں جائے گی اور وہیں سے لڑکی کو لائیں گے لڑکا کہتا ہے میں اکیلا جا کر لڑکی کو لے آئوں گا۔ آپ حضرات سے ان سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں:
(۱) شادی میں رخصتی کیلئے بارات لے جانا مسنون ہے یا اکیلے دولہا جا کر دلہن کو لائے؟
(۲) آپ ﷺ اور صحابہ کا اس سلسلے میں کیا معمول تھا؟
(۳) آپ ﷺ سے دلہن کے گھر بارات لے جانا ثابت ہے اگر ثابت ہے تو کیا دولہا کے خاندان والے بھی دلہن کو لینے گئے تھے اور اس موقع پر لڑکی والوں نے کھانا کھلایا ہو؟
الجواب بعون الملک الوھاب
شریعت مطہرہ نے شادی کے معاملے کو انتہائی سادگی سے انجام دینے کا درس دیا ہے۔ آپ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے: ”ان أعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ“(مشکوۃ ۲۶۸)
”سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو“
اسی طرح صحابہ کرام  کا معمول اس سلسلے میں نہایت سادگی کا تھا حضرت عبدالرحمن بن عوف کا واقعہ ان الفاظ میں منقول ہے:
عن أنس ؓ : أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال : "ما هذا ؟ " قال : إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال : " بارك الله لك أولم ولو بشاة"
”حضرت انس سے مروی ہے آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف پر زرد رنگ کے آثار دیکھے (جو کہ شادی کی علامت ہوتے ہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ایک عورت سے سونے کے ٹکڑے کے عوض شادی کرلی ہے آپ ﷺ نے فرمایا:” بارک اللہ “ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔ (مشکوۃ ص ۲۷۷)
اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دورِ نبوی میں شادی کرنا کتنا آسان تھا دونوں جہانوں کے سردار اور النبی الخاتم پیغمبرﷺ کو بھی اپنے حد درجے قریب (عشرہ مبشرہ) میں سے ایک صحابی کے نکاح کی اطلاع نہ تھی نیز آپ ﷺ نے اس پر برا منانے کے بجائے برکت کی دعا دی اس سے شریعت کا اصل مزاج سمجھنا آسان ہے۔
شادی کے اندر صرف دعوتِ ولیمہ آپ ﷺکی مستقل سنت ہے، آپ ﷺ کا مبارک ارشاد ہے:
قال : " إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها "(مشکوۃ ص۲۷۸)
”تم میں سے کسی کو اگر ولیمہ کا دعوت نامہ ملے تو اسے چاہیئے کہ شرکت کرے“
نیز ایک اور حدیث میں ہے: