الجواب بعون الملک الوھاب
لڑکی اگر بالغہ ہو تو وہ اپنے نکاح کا وکیل کسی کو بھی بناسکتی ہے اور اگر نابالغہ ہو تو یہ اختیار باپ کے پاس ہوتاہے کہ وہ جسے چاہے وکیل بنائے لیکن وکیل بنانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ لڑکی کا رشتہ ڈھونڈنے سے لے کر آخر تک تمام معاملات کا وکیل بنانا یہ وکیل تو کسی بھی شخص کو بنایا جاسکتا ہے لیکن دوسرا یہ کہ کسی معین شخص سے نکاح کی اجازت لے کر اس کے نکاح پڑھانے کا وکیل بنانا یہ وکیل بھی اگرچہ ہر شخص کو بنایا جاسکتا ہے لیکن یہ لڑکی کا محرم ہو تو یہ مروّت اور شرافت کے مطابق ہے۔ نامحرم کا لڑکی کے پاس جا کر لڑکی سے اجازت لینا نامناسب بات ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر وہ وکیل (لڑکے کے خاندان والا) لڑکی کا بھی محرم ہو تو وہ لڑکی سے جاکر اجازت لے لے لیکن اگر وہ نامحرم ہو تو بہتر یہ ہے کہ یہ کام لڑکی کے خاندان سے ہی لڑکی کا کوئی محرم انجام دے البتہ نکاح بہرصورت منعقد ہوجائے گا۔
لمافی القرآن الکریم (النور:۳۰): قُل لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبِيْرٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ۔
وفی السنن للامام ابی داود (۲۸۸/۱):عن عقبة بن عامر ؓ أن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال لرجل أترضى أن أزوجك فلانة قال نعم. وقال للمرأة أترضين أن أزوجك فلانا . قالت نعم. فزوج أحدهما صاحبه ۔
وفی القدوری (ص۱۷۱): کل عقد جاز أن یعقدہ الانسان بنفسہ جاز أن یؤکل بہ غیرہ ۔۔۔ وبعد أسطر ۔۔۔ومن شرط الوکالۃأن یکون المؤکل ممن یملک التصرف ویلزمہ الاحکام ۔
وفی الدرالمختار (۹۶/۳):( ويتولى طرفي النكاح واحد ) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين۔الخ۔
(۴۹۷) نکاح کا وکیل نامحرم ہوسکتا ہے
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے مجلس نکاح میں موبائل فون پر لڑکی سے ایجاب وقبول کروایا تو کیا موبائل فون پرایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے یانہیں؟
(۲) لڑکی کیلئے اپنا وکیل اور گواہ محارم میں سے مقرر کرنا ضروری ہے یا غیر محرم کو بھی نکاح کا وکیل اور گواہ بناسکتی ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
گواہوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متعاقدین (یعنی نکاح کرنے والے مرد اور عورت) میں سے ہر ایک کے الفاظ (یعنی ایجاب وقبول) کو ایک ساتھ سنیں نیز متعاقدین اور گواہوں کی مجلس بھی ایک ہونی چاہیئے اگر مجلس ایک نہ ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوتا لہٰذا فون وغیرہ سے جوایجاب وقبول کیا جاتا ہے اس سے مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا چنانچہ اگر متعاقدین دور دراز علاقہ میں ہوں تو نکاح کی بہتر صورت یہ ہے کہ لڑکا کسی ایسے شخص کو جو لڑکی کے شہر میں رہتا ہو وکیل بنا دے اور وکیل اس کی جانب سے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرے نیز لڑکی کے لئے وکیل وگواہ غیر محرم بھی بن سکتے ہیں البتہ نامحرم کولڑکی سے اجازت لینے کا وکیل بنانا خلافِ مروت ہے بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا محرم یا ولی اقرب خود جا کر لڑکی سے اجازت لے۔