"وعن أنس ؓ قال : ما أولم رسول الله صلى الله عليه وسلم على أحد من نسائه ما أولم على زينب أولم بشاة۔"
حضرت انس سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کا ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا کہ حضرت زینب کا فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے ذریعہ دعوت ولیمہ کی۔“ (مشکوۃ ص ۲۷۸)
لہذا ولیمہ کی دعوت تو مسنون عمل ہے البتہ جہاں تک تعلق ہے شادی میں بارات کا، تو اس میں کچھ تفصیل ہے۔بعض روایات سے جزوی طور پر رخصتی کے وقت (لڑکی والوں کی طرف سے) کھانا کھلانا ثابت ہوتا ہے۔اگرچہ ان روایات پر کلام ہے اور بعض روات کو ضعیف قرار دیا گیا ہے چنانچہ ان روایات سے سنیت کو ثابت نہیں کیا جاسکتا لہٰذا رخصتی کے وقت لڑکی والوں کی طرف سے شرکاء کو کھانا کھلانا وغیرہ اسے سنت قرار نہیں دیا جائےگا ۔نیز بعض صحیح احادیث سے رخصتی کے وقت لڑکی کے گھر کی خواتین اور بچوں کا جانا بھی ثابت ہوتا ہے۔احادیث یہ ہیں:
(۱) مصنف عبدالرزاق میں حضرت فاطمہ کی شادی کا واقعہ ایک تفصیلی حدیث میں ذکر ہے ان کی رخصتی کے وقت آپ ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے:
"فقال يا بلال إني زوجت ابنتي ابن عمي وأنا أحب أن يكون من سنة أمتي إطعام الطعام عند النكاح فأت الغنم فخذ شاة ۔۔۔۔ فاجعل لي قصعة لعلي أجمع عليها المهاجرين والأنصار"(مصنف عبدالرزاق ۴۸۷/۵)
”اے بلال! میں نے اپنی صاحبزادی کا نکاح اپنے چچا زاد سے کردیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میری امت کا نکاح کے وقت کھانا کھلانے کا طریقہ کار ہو۔ جائواور بکری لے کر آئو… اور ایک برتن میں میرے لئے بنائو (کھانا تیار کرو)تا کہ میں مہاجرین اور انصار کو جمع کر(کے ان کی دعوت کر) سکوں۔‘‘
اس روایت میں حضرت فاطمہ کے نکاح کے وقت آپ ﷺ کی طرف سے کھانے کا انتظام کرنے کا ذکر ہے۔
(۲) بخاری شریف میں امام بخاری نے باب قائم فرمایا ہے”باب ذھاب النساء و الصبیان الی العرس“(یہ باب ہے عورتوں اور بچوں کے رخصتی کے لئے جانے کے بیان میں) اور اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں:
"عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: أبصر النبي صلى الله عليه وسلم نساء وصبيانا مقبلين من عرس، فقام ممتنا، فقال:اللهم أنتم من أحب الناس إلي۔"( صحیح البخاری ۷۷۸/۲)
”حضرت انس بن مالک سے روایت ہے آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو دلہن کو رخصت کرکے آتے دیکھا آپ ﷺ فرطِ مسرت سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا: تم لوگ مجھے اور آدمیوں سے زیادہ محبوب ہو۔“
(۳)مستدرک حاکم میں حضور اقدس ﷺ کے ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے نکاح کا تفصیلی واقعہ ذکر ہے ابتداءِ اسلام میں ہی ام حبیبہ حبشہ ہجرت فرماگئی تھیں آپ ﷺ نے حبشہ میں ہی انہیں پیغام نکاح بھیجا اور شاہِ حبشہ نجاشی نے خود آپﷺ کے نکاح کا خطبہ پڑھا اور یہ نکاح منعقد کیا گیا خطبہ نکاح کے بعد کے الفاظ روایت میں اس طرح منقول ہیں: