کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چھوٹے بھائی کی داڑھ میں زخم ہے اور وہ روئی دوائی میں ڈبو کر منہ میں رکھتا ہے اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر وہ روزے کی حالت میں روئی دوائی میں ڈبو کر منہ میں رکھے تو کیا روزہ ہوگا یا ٹوٹ جائے گا اور اسی طرح اگر کبھی خون کا ذائقہ محسوس ہو تھوک نگلنے پر، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
روئی دوائی میں ڈبوکردانتوں یاناک میں رکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اسلئے کہ اسکے اثرات دماغ تک پہنچ جاتے ہیں اوراسمیں صلاحِ بدن بھی ہےاورہرایسی چیزکہ جسکے اثرات دماغ تک پہنچ جائیں اوروہ جسم کیلئے مفیدبھی ہوتووہ مفسدصوم ہےنیزدانتوں سے خون نکل کر تھوک کے ساتھ ملنے کی تین صورتیں ہیں خون غالب ہوگایاتھوک اوریادونوں برابرہونگے۔اگرتھوک غالب ہے اوراسکونگل گیاتواس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گااوراگرخون غالب ہے تواس صورت میں روزہ ٹوٹ جائیگااوربرابرہونیکی صورت میں بھی احتیاطاروزہ ٹوٹ جائیگا۔
لمافی مراقی الفلاح(صـ۵۵۳):(أو)أکل (نواۃ أوقطنا) أوابتلع ریقہ متغیرا بخضرۃ أوصفرۃ من عمل الابریسم ونحوہ وھوذاکرلصومہ…لاکفارۃ علیہ۔
وفی الطحطاوی علی مراقی الفلاح (صـ۵۵۴): (قولہ والسعوط) بضم السین الفعل وبفتحھا مایتسعط بہ۔ (قولہ صبہ)؛ای الدواء فی الأنف ھذامعناہ لغۃ والحکم لایخص صب الدواء بل لواستنشق الماء فوصل الی دماغہ افطر۔
(۴۴) بلاارادہ حلق میں پانی چلے جانے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم
سؤال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دن روزے سے تھا ظہر کی نماز کیلئے وضو کررہا تھا تو کلی کرتے وقت میرے حلق میں پانی چلا گیا تو کیا اس سے میرا روزہ ٹوٹ گیا؟اسی طرح بعض دفعہ حلق میں پانی جانے کا صرف شک ہوتا ہے اور بعض دفعہ صرف ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں اگرروزہ دارکواپناروزہ یادہو،اورغلطی سے حلق میں پانی چلاجائے تواس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے لیکن اس صورت میں صرف قضا لازم ہوگی نہ کہ کفارہ۔نیزصرف شک ہونے یاٹھنڈک محسوس کرنے سے روزہ پرکوئی اثرنہیں پڑتا۔
لمافی الشامیۃ(۲۱۹/۱): لأن الیقین لایرتفع بالشک۔
وفی الدر المختار(۴۰۱/۲): وان افطرخطاً؛کأن تمضمض فسبقہ الماء…
وفی الشامیۃ تحتہ: (قولہ وإن أفطر خطأ) شرط جوابہ قولہ الآتی قضی فقط…… والمراد بالمخطیٔ من فسد صومہ بفعلہ المقصود دون قصد الفساد۔
(۴۵) نسوار رکھنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم
سؤال