کیا چیز ہوتی ہے اور کیا کرنا چاہئے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:کوے وغیرہ کے بیٹھنے کا کوئی اثر شرعاً معتبر نہیں ہے اور اس طرح کا عقیدہ بھی شریعت کے خلاف ہے۔
عن ابن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا عدویٰ ولا طیرۃ ولا ہام ولا صفرۃ۔ (صحیح البخاري ۲؍۸۵۷)
وأصل التطیر أنہم کانوا في الجاہلیۃ یعتمدون علی الطیر، فإذا خرج أحدہم لأمر فإن رأی الطیر طار یمنۃ تیمن بہ واستمر، وإن رآہ طار یسرۃ تشاء م بہ ورجع، وربما کان أحدہم یہیج الطیر لیطیر فیعتمدہا، فجاء الشرع بالنہي عن ذٰلک۔ (فتح الباري شرح صحیح البخاري ۱۳؍۲۶۱ تحت رقم: ۵۷۵۳)
قولہ: ’’لا طیرۃ‘‘ أي لا عبرۃ بالتطیر تشاؤماً وتفاؤلاً ’’وخیرہا‘‘ أي خیر أنواع الطیرۃ بالمعنی اللغوي الأعم من المأخذ الأصلي ’’الفأل‘‘ أي الفأل الحسن بالکلمۃ الطیبۃ لا المأخوذ من الطیر۔ ومعناہ: أن الفأل محض خیر۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۸؍۳۹۲ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۳؍۲؍۱۴۱۳ھ
جیوتش کا حساب لگا کر اپنے کام کاج طے کرنا ؟
سوال(۸۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کچھ لوگ مسلمانوں میں بھی علم جیوتش پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اپنا کوئی بھی کام بغیر جیوتش کا حساب لگائے نہیں کرتے، مثلاً شادی کی تاریخ طے کرنا، سفر کے لئے نکلنا، مکانات یا کوئی بھی چیز کی خریداری وغیرہ کرنا، کیا ایسے لوگوں کا یہ عمل جائز ہے اور اس طرح کے لوگوں سے رشتہ، شادی وغیرہ جوڑنا صحیح ہے یاغلط؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جیوتشیوں اور نجومیوں کی بات پر یقین کرنا اور اپنے معاملات کی انجام دہی میں ان کے مشورے قبول کرنا غیر اسلامی عمل ہے، اسلامی شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور ایسے لوگوں کا ایمان خطرہ میں ہے، اور بہتر ہے کہ ایسے لوگوں سے رشتے وناطے میں احتیاط کی جائے؛ تاکہ ان کے غلط نظریات دوسرے خاندانوں اور افراد کی طرف منتقل نہ ہوں۔ (مستفاد: احسن الفتاوی ۱؍۵۲)
{وَلاَ تَرْکَنُوْآ اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ} [ہود: ۱۱۳]
عن معاویۃ بن حکم رضي اللّٰہ عنہ قال: قلت یا رسول اللہ! أموراً کنا نصنعہا في الجاہلیۃ، کنا نأتي الکہان قال: فلا تأتوا الکہان۔ (صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ / باب تحریم الکلام في الصلاۃ رقم: ۱۲۱-۵۳۷)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت سأل أناس رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الکہان فقال لہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إنہم لیسوا بشيء۔ (صحیح البخاري، کتاب الأدب / باب قول الرجل للشيء (لیس بشيء) رقم: ۶۲۱۳، صحیح مسلم، السلام / باب تحریم الکہانۃ وإتیان الکاہن رقم: ۲۲۲۸)
عن أبی ہریرۃ ص قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من أتی کاہنا فصدقۃ بما یقول…فقد برئ مما أنزل علی محمد۔ (مسند أحمد ۲؍۴۰۸، سنن أبي داؤد رقم: ۳۹۰۴، سنن الترمذي رقم: ۱۳۵، مشکوٰۃ المصابیح ۳۹۲-۳۹۳) فقط واﷲ