وفی الشامیۃ: وتضع یدیھا علی رکبتیھا ولا تحنی رکبتیھا وتنضم فی رکوعھا وسجودھا وتفترش ذراعیھا… وذکر فی البحر انھا لا تنصب اصابع القدمین…الخ۔
(۱۱۹) ٹوپی کیسی ہو؟آپ اسے ٹوپی پہننے کا ثبوت اور بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز اور غیر نماز میں آپ ﷺسے ٹوپی پہننا ثابت ہے یا نہیں؟ ٹوپی کس قسم کی ہونی چاہیئے؟ بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا یعنی ننگے سر نماز پڑھنا شرعاً کیسا ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب… حضور اقدس جناب رسول اﷲ ﷺاور حضراتِ صحابۂ کرام سے نماز اور غیر نماز میں ٹوپی اور عمامہ یعنی پگڑی کا پہننا ثابت ہے۔ آپ ﷺکی ٹوپیاں تین طرح کی تھیں ایک وہ تھی جو سر کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی تھی دوسری وہ تھی جو سر سے کسی قدر اونچی ہوتی تھی تیسری بڑی ٹوپی تھی جس میں کان بھی ڈھک جاتے تھے اور بغیر ٹوپی کے ننگے سر نماز پڑھنا خلافِ سنت ہے اس لئے ٹوپی پہننے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
لما فی شمائل الترمذی(صـ۸): عن جابر قال دخل النبی ﷺ مکۃ یوم الفتح علیہ عمامۃ سوداء۔
وفی الصحیح للبخاری(۱/۵۶):وقال الحسن کان القوم یسجدون علی العمامۃ والقلنسوۃ ویداہ فی کمہٖ۔
وفی کنز العمال(۱۲۱/۷): کان یلبس قلنسوۃ بیضاء(طب عن ابن عمر)۔۔۔کان یلبس القلانس تحت العمائم وبغیر العمائم ویلبس العمائم بغیر القلانس وکان یلبس القلانس الیمانیۃ وھن ابیض المضرّبۃ ویلبس ذوات الآذان فی الحرب وکان ربما نزع قلنسوتہ فجعلھا سترۃ بین یدیہ وھو یصلی الخ۔
وفی بذل المجھود (۵۲/۵): ولأبی الشیخ عن ابن عباس کان لرسول اﷲ ﷺ ثلث قلانس الحدیث۔
(۱۲۰) مسجدمیں رکھی ٹوپی پہن کرنمازپڑھنے کاحکم
سوال…کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ٹوپی نہ ہونیکی صورت میں مسجدمیں پڑی ہوئی ٹوپی کااستعمال یاچھوٹارومال سرپررکھ کرنمازپڑھناجائزہے؟میرے ایک دوست کاکہناہے کہ ان دونوں صورتوں سے بہترہے کہ ننگے سرنمازپڑھ لی جائے،کیایہ بات صحیح ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب… ٹوپی نہ ہونے کی صورت میں مسجدمیں رکھی ہوئی ٹوپی کواستعمال کرنایاچھوٹارومال سر پر رکھنا درست ہے البتہ اسکی عادت نہ بنائی جائے،اورآپ کے دوست کی بات درست نہیں ہے کیونکہ سرڈھانپنانمازکے آداب میں سے ہے۔
لمافی الشامیۃ(۶۴۱/۱):( قولہ ولابأس بہ للتذلل ) قال فی شرح المنیۃ : فیہ اشارۃ الی أن الاولی ان لایفعلہ وأن یتذلل ویخشع بقلبہ فانھمامن أفعال القلب وتعقبہ فی الامداد بمافی التجنیس من أنہ یستحب لہ ذالک لان مبنی الصلاۃ علی الخشوع۔
(۱۲۱) ننگے سر نمازپڑھنے سے متعلق مکروہ تنزیہی اور تحریمی کی تحقیق
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ لوگ جب نماز کو آتے ہیں تو ٹوپی نہیں پہن کر آتے بلکہ مساجد میں جو پلاسٹک کی ٹوپیاں یا لکڑی کی چھال کی ٹوپی بنی ہوتی ہے وہ پہن لیتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنی جیب سے ناک صاف کرنے والا رومال باندھ لیتے ہیں کیا ایسی صورت میں نماز ہوجاتی ہے کیونکہ میں نے کسی دینی کتاب میں یہ بات پڑھی تھی کہ ان ٹوپیوں میں نماز نہیں ہوتی۔ براہ کرم جلد از جلد قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
الجواب بعون الملک الوھاب… سب سے پہلے چند امور قابل ذکر ہیں۔
(۱)۔ اکثر فقہاء نے ننگے سر نماز پڑھنے کو مطلق مکروہ کہا ہے۔
(۲)۔ جب کبھی مطلق کراہت کا ذکر ہو تو اس سے مراد کراہت تحریمی ہوتی ہے الآیۃ کہ کراہت تنزیہی کی کوئی دلیل وہاں موجود ہو جیسا کہ الشامیہ (۱/۲۲۴) پر مذکور ہے کہ ’’الکراہۃ حیث اطلقت فالمراد منہا التحریم‘‘
(۳)۔ بعض فقہاء نے ننگے سر نماز پڑھنے کو ازار واحد میں نماز پڑھنے پر قیاس کیا ہے جیسا کہ البحرالرائق (۲/۴۴) پر مذکور ہے ’’وان صلّی فی ازار واحد یجوز ویکرہ… وکذا مکشوف الرأس للتہاون والتکاسل‘‘ اور ازار واحد میں نماز (باوجود قمیص یا چادر وغیرہ پر قدرت کے) مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ حاشیۃ الطحطاوی (صفحہ ۳۴۹) پر مذکور ہے’’وصلاتہ فی