الجواب بعون الملک الوھاب… سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مسبوق سجدہ سہو میں توامام کی متابعت کریگایعنی سجدہ سہوامام کیساتھ اداکریگاالبتہ سلام میں امام کی متابعت نہیں کریگایعنی بغیرسلام پھیرے امام کیساتھ سجدہ میں جائیگا،اب صورت مسئولہ کوسمجھئے اگرمسبوق نے امام کیساتھ سلام پھیرلیاتوپھراگرقصداً سلام پھیراہے (یہ بات یاد ہو کہ میری نماز باقی ہے) تواسکی نمازفاسدہوگئی اوراگرقصداًسلام نہیں پھیراتونمازفاسدنہ ہوگی اورسجدہ سہوبھی لازم نہ ہوگا،اسی طرح جب امام نمازختم کرنے کیلئے سلام پھیرے تواس سلام میں بھی مسبوق امام کی متابعت نہ کرے اگراس آخری سلام میں مسبوق نے امام کیساتھ قصداًسلام پھیرلیا(یہ بات یادہوکہ میری نمازباقی ہے)تواسکی نمازفاسدہوجائیگی اوراگرسہواًسلام پھیراتونمازفاسدنہ ہوگی اوریہ سلام جومسبوق نے سہواًپھیراہے اگریہ سلام، امام کے سلام سے کچھ پہلے یامتصل واقع ہواہوتومسبوق پراپنی نمازکے آخرمیں سجدہ سہولازم نہیں ہوگاکیونکہ مسبوق مقتدی کے حکم میں ہے اورامام کے ساتھ مقتدی جب سہوکرلے تواس پرسجدہ سہولازم نہیں ہوتاالبتہ اگرمسبوق نے امام کے سلام پھیرنے کے بعدسلام پھیراتواپنی نمازکے آخرمیں اس پر سجدہ سہولازم ہوگاکیونکہ اب یہ منفردہوگیا۔
لمافی الشامیۃ (۸۲/۲): (قولہ،والمسبوق یسجدمع امامہ) قیدبالسجودلانہ لایتابعہ فی السلام بل یسجدمعہ ویتشھدفاذاسلم الامام قام الی القضاء فان سلم فان کان عامدافسدت والالاولاسجود علیہ ان سلم سہواقبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفردا حینئذ۔
(۱۶۴) مسبوق کا اپنی بقیہ رکعات میں قرأت بھول جانے پر سجدۂ سہو نہ کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ظہر کی نماز میں دو رکعت کے بعد آکر جماعت میں شریک ہوا، اور جب امام نے سلام پھیر دیا تو کھڑے ہوکر اپنی بقیہ دو رکعت پڑھنے لگا، ان دو رکعت میں وہ سورۂ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا بھول گیا۔ لیکن چونکہ اس نے آخری دو رکعت امام کے ساتھ پڑھیں تھیں اس وجہ سے اس نے ان دو رکعتوں میں چھوٹنے والی سورۃ کی وجہ سے سجدۂ سہو نہیں کیا تو آیا اس کی نماز ہوگئی؟ یا اس کا اعادہ کرنا لازم ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب… مسبوق آدمی (جس کی ابتداءً امام سے کچھ رکعتیں رہ گئی ہوں) وہ بقیہ رکعتوں کی ادائیگی میںمنفرد یعنی اکیلے نماز پڑھنے والے کے حکم میں ہوتا ہے اور جب وہ بقیہ رکعتوں کی ادائیگی کرے تو اس کے ذمہ پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورۃ ملانا واجب ہے اسی طرح اگر اس سے کچھ سہو ہوجائے اپنی بقیہ رکعتوں کی ادائیگی میں تو اس پر سجدہ سہو کرنا بھی لازم ہوتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص پر واجب کے ترک یعنی پہلی دو رکعتوں میں سورت چھوڑنے کی بناء پر نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے اور مذکورہ شخص کا اس بات کو علت ومدار بنانا کہ میں نے چونکہ آخری دو رکعتیں امام کے ساتھ پڑھی تھیں اس لئے سجدہ سہو نہیں کیا یہ بات صحیح نہیں۔
لمافی المبسوط للامام السرخسی (۲۲۰/۱): قال وان سھا عن القراء ۃ فی الاولیین فعلیہ سجود السھو لان القراء ۃ رکن والاولیان تعینتا لاداء ھذا الرکن واجبا وبترک الواجب یتمکن النقصان فی الصلاۃ۔
وفی الھندیۃ (۹۱/۱): ولو ادرک رکعتین قضی رکعتین بقراء ۃ ولو ترک فی احدٰھما فسدت، وفی (صـ۱۲۶): ولا یجب السجود الا بترک واجب او تاخیرہ…… ولو قرأ الفاتحۃ وحدھا وترک السورۃ یجب علیہ سجود السھو وکذا لو قرأ مع الفاتحۃ آیۃ قصیرۃ کذا فی التبیین۔
(۱۶۵) سجدہ میں سوجانے اور نیند یا کسی اور وجہ سے مقتدی کے لاحق ہوجانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں دکان پر کام کرتا ہوں اور رات دیر تک دکان کھلی رہتی ہے اس لئے صبح کبھی کبھی نیند کا غلبہ ہوتا ہے آج صبح کی نماز میں میں پہلے سجدہ میں سوگیا اور جب آنکھ کھلی تو امام صاحب کھڑے تھے میں بھی کھڑا ہوگیا اور آخر میں امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلی تو میری یہ نماز ہوئی یا نہیں؟ نہیں ہوئی تو کس طرح ادا کروں از سر نو ادا کروں یا آخر میں امام کے سلام کے بعد سجدہ سہو کرکے ادا کروں۔ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب بعون الملک الوھاب… صورت مسئولہ میں جب آپ سجدہ میں سوگئے، اگر اس حالت میں سجدہ کی مسنون کیفیت برقرار نہ رہی تو اس سے آپ کا وضو ٹوٹ گیا، اور نماز بھی جاتی رہی۔ سجدہ کی مسنون کیفیت سے مراد یہ ہے کہ حالت سجدہ میں انسان کا پیٹ رانوں سے اور بازو پہلوئوں سے الگ رہیں اور اگر سجدہ کی مسنون کیفیت برقرار رہی، تو آنکھ کھلنے پر آپ کو چاہیئے تھا کہ پہلے دوسرا سجدہ جو آپ سے چھوٹ گیا تھا، ادا کرتے اور پھر امام کے ساتھ رکعت میں شریک ہوجاتے، تو آپ کی نماز درست ہوجاتی، لیکن آپ