بل ان کفاہ اقل من ذلک نقص منہ وان لم یکفہ زاد علیہ بقدر مالا اسراف ولا تقتیر کذا فی محیط السرخسی وکذلک لوتوضأ بدون المد واسبغ وضوء ہ جاز ھکذا فی شرح الطحاوی… وکل ھذا غیر لازم لاختلاف طباع الناس کذا فی شرح المبسوط۔
وفی رد المحتار (۱۵۸/۱): (قولہ وقیل المقصود) الاصوب حذف قیل لما فی الحلیۃ انہ نقل غیر واحد اجماع المسلمین علی ان ما یجزیٔ فی الوضوء والغسل غیر مقدر بمقدار وما فی ظاھر الروایۃ من أن أدنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مد للحدیث المتفق علیہ، کان ﷺ یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس بتقدیر لازم بل ھو بیان أدنی القدر المسنون اھـ قال فی البحر حتی أن من أسبغ بدون ذلک اجزأہ وان لم یکفہ زاد علیہ لان طباع الناس وأحوالھم مختلفۃ کذا فی البدائع اھـ وبہ جزم فی الامداد وغیرہ۔
وفی الفقہ الاسلامی(۱۴۳/۱): وعند ابی حنیفۃ وفقھاء العراق ثمانیۃ ارطال باعتبار ان المد رطلان، فیکون (۳۸۰۰ غم) وفی تقریر آخر وھو الشائع ان الصاع (۲۷۵۱ غم)
(۱۰) ہاتھ کی انگلیوں کا خلال ہاتھ دھونے سے پہلے ہوگایا بعد میں؟
سوال…کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال سنت ہے یہ کس وقت ہوگا؟
الجواب بعون الملک الوھاب…ہاتھ کی انگلیوں کا خلال وضو کے اندر ہاتھوں کو دھونے کے بعد ہوگا اس لئے کہ ہاتھوں کا دھونا فرض ہے اور تخلیلِ یدین سنت ہے اور سنت تکمیل فرض کے لئے ہوتی ہے اس لئے انگلیوں کا خلال فرض کے بعد ہوگا۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ بہشتی زیور میں تحریر فرماتے ہیں: پھر تین بار داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئے پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت تین دفعہ دھوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے اور انگوٹھے چھلا چوڑی جو کچھ ہاتھ میں پہنے ہوئے ہلا لیوے کہ کہیں سوکھا نہ رہ جاوے۔ پھر ایک مرتبہ سارے سر کا مسح کرے پھر کان کا مسح کرے۔
لمافی البنایۃ(۱۱۲/۱۔۱۱۳): (ولأنہ) ای ولأن تخلیل الأصابع (اکمال الفرض فی محلہ) ای فی محل الفرض…وھذا ایضاً فیہ نظر لأن فی حدیث وائل بن حجرؓرواہ البزار فی مسندہ قال شھدت النبی ﷺ واتی بماءٍ فاکفأ علی یمینہٖ ثلاثا۔۔۔ الحدیث، وفیہ ثم غسل بیدہ الیمنٰی قدمہ الیمنی وفصل بین اصابعہ أوقال خلل بین اصابعہ اھـ
وفی الشامیۃ(۱۱۷/۱): اقول قدعلمت من الحدیث المار التقیید فی تخلیل اللحیۃ بأخذ کف من ماء وفی البحر ویقوم مقامہ أی تخلیل الأصابع الادخال فی الماء ولو لم یکن جاریا، وفیہ عن الظھیریۃ ان التخلیل انما یکون بعد التثلیث لانہ سنۃ التثلیث۔
(۱۱) بیت الخلاء میں وضو کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے مدرسے میں غسل خانے موجود ہیں لیکن نہ ہونے کے برابر کہ لیٹرین اور غسل خانہ ساتھ ہیں ہمارے طلباء اسی میں فراغت حاصل کرتے ہیں اور غسل بھی کرتے ہیں اب بعض طلباء اسی کے اندر جا کر وضو کرتے ہیں تو کیا ان کا وضو صحیح ہوجائے گا یا دوبارہ باہر وضو کرنا پڑے گا؟
الجواب بعون الملک الوھاب… صورت مسئولہ میں وضوء درست ہے دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ چونکہ عام طو رپر ایسی جگہوں پر صفائی کا اہتمام نہیں ہوتالہٰذا وضو کی دعائیں جہراً نہ پڑھی جائیں۔
لمافی بذل المجھود(۳/۱):( اذا دخل الخلاء) أی اذا اراد دخول مکان الخلوۃ عند قضاء الحاجۃ الخ إلی ان قال وھذا مذھب الجمھور وقالوا: من نسی یستعیذ بقلبہ لابلسانہ الخ۔
وفی الھندیۃ(۶/۱): ویسمی قبل استنجاء… ولا یسمی فی حال الانکشاف ولافی محل النجاسۃ ھکذا فی فتح القدیر۔
وفی الشامیۃ(۱۰۹/۱): الظاھر أن المراد أنہ یسمی قبل رفع ثیابہ إن کان فی غیر المکان المعد لقضاء الحاجۃ والا فقبل دخولہ فلو نسی فیھما سمی بقلبہ ولا یحرک لسانہ تعظیماً لاسم اﷲ تعالیٰ۔
وفی الدرالمختار(۱۳۳/۱): ومن منھیاتہ التوضوء… فی موضع نجس، لان لمائِ الوضوء حرمۃ۔
(۱۲) آبِ زم زم سے وضو کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص ایسے مقام پر ہو جہاں پانی نہ ہو اور اس کے پاس آبِ زم زم موجود ہو، اورنماز کا وقت ہوجائے تو کیا یہ شخص آبِ زم زم سے وضو کرسکتا ہے یا تیمم کرکے نماز پڑھے؟