(دوسری فصل)مصافحہ میں دعا کا ثبوت -- غفلت، سبب ِغفلت اور اصلاح
اسلامی مصافحہ اور غیر اسلامی مصافحہ میں فرق یہ ہے کہ اسلامی مصافحہ کرنے والے رب کائنات سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں اورغیراسلامی مصافحہ دعائِ مغفرت سے خالی ہوتا ہے، اسلامی مصافحہ سے گناہ جھڑ تے ہیں، اس سلسلے میں ایک حدیث ہے:
عن البراء بن عازب: قال: قال رسول ا للہﷺ: وما من مسلمین یلتقیان، فیتصافحان، إلا غفر لہما قبل أن یتفرقا۔(ترمذی: ۲۷۳۳، باب المصافحۃ)
حضورﷺ نے فرمایا: جو بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں پس وہ مصافحہ کرتے ہیں تو دونوں کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
اس حدیث میں بوقتِ مصافحہ دعا پڑھنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ اس موقع پر دعا پڑھی جائے یا نہیں، اور دعا پڑھی جائے تو کون سی؟ اِس سلسلے میں پہلی بات تو یہ یاد رکھنے کی ہے کہ مذکورہ روایت میں اگر چہ دعا پڑھنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے؛ لیکن دوسری روایت جو حضرت براء بن عازبؓسے ہی مروی ہے، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ بوقتِ مصافحہ مغفرت کی دعا اور اللہ کی تعریف کرنی چاہیے، حدیث پڑھیے:
عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللہﷺ: إذا التقی المسلمان فتصافحا وحمدا اللہ واستغفراہ غفرلہما۔(ابوداؤد:۵۲۱۱، باب فی المصافحۃ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغفرت کے لیے، دعائِ مغفرت اور اللہ کی تعریف ضروری ہے، لہٰذا مصافحہ کرتے وقت دعا کرنے کی قید پہلی روایت میں بھی ہوگی۔
مفتی سعید احمدصاحب لکھتے ہیں:
یہ حدیث (پہلی روایت) اتنی مشہور ہوگئی کہ مصافحہ سے دعا رخصت ہوگئی؛ حالاں کہ